مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
چئرمین نیب کیلئے چوہدری قمر پر حکومت اپوزیشن متفق، پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ
اسلام آباد ... وزیر اعظم پاکستان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے چئرمین نیب کےلیے سینئر بیوروکریٹ چوہدری قمر زمان کا نام فائنل کر لیا ہے۔ چودھری قمر زمان کے نام پر وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے درمیان پہلی بار تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن لیڈر کی فہرست میں چودھری قمر زمان کا نام شامل نہیں تھا۔ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان جسٹس میاں اجمل اور جسٹس چودھری اعجاز کے ناموں پر غور ہوا تھا۔ چودھری قمر زمان اس وقت سیکریٹری داخلہ کے عہدے پر فائز ہیں، وہ گریڈ ٢٢ کے آفیسر ہیں جو کمشنر لاہور اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ عدالت عظٰمی نے نیب کے سابق چیئرمین فصیح بخاری کی تقرری کو مئی میں اس بنا پر کالعدم قرار دے دیا تھا کہ اس عمل میں آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اس وقت سے یہ عہدہ خالی ہے اور سپریم کورٹ نے حکومت کو نئی تقرری جلد از جلد کرنے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ نیب کے سربراہ کی تقرری کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے درمیان پانچ ملاقاتیں ہوئیں تھیں جن میں کسی نام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ خورشید شاہ نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کو وزیرِ اعظم کی طرف سے اُنھیں کچھ نئے نام تجویز کیے جن میں سیکرٹری داخلہ چودھری قمر زمان کا نام بھی شامل تھا۔ جب یہ نام آیا تو میں نے کچھ دوستوں سے مشاورت کی اور جب آج میاں نواز شریف نے مجھ سے براہ راست بات کی تو میں نے کہا کہ چودھری قمر زمان کے نام پر میں اتفاق کرتا ہوں۔ خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اس تنقید کو بھی بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا کہ ایوان میں قابل ذکر نمائندگی کے باوجود نیب کے چیئرمین کے معاملے پر اس جماعت سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشاورت کے تمام راستے کھلے تھے۔ دریں اثنا تحریک انصاف نے چودھری قمر زمان کو چیئرمین نیب لگانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہنیب کے نئے چیرمین کے معاملے پر اتفاق رائے سے متعلق فوری طور پر حکمران مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔