مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت، عوام کے ساتھ ساتھ عالمی سربراہان مملکت بھی بے یقینی کا شکار
لندن ۔ ۔ ۔ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کیساتھ ہی عالمی سربراہان مملکت کے خیالات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ تیسری دنیا جو اپنے مفادات کیلئے ہمیشہ امریکہ کی طرف دیکھتی ہے اس کے سربراہان نے تو خوشامدی لہجہ ایک لمحے سے پہلے اپنا لیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیابی کے پیغامات بھیجے ہیں مگر یورپی ممالک کے سربراہان نے اس موقع پر انتہائی محتاط رویہ اپنایا ہے جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے نئے امریکی صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے تاریخ ساز تعلقات پر کوئی اثر نہ پڑے گا دونوں ممالک تجارت، سیکیورٹی اور دفاع میں ایک دوسرے کیساتھ مکمل تعاون رکھیں گے، برطانوی لیبر رہنما جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ امریکہ کا وہ معاشی نظام جو ایک عرصہ سے مفلوج تھا اسے عوام نے اکثریت کیساتھ رد کردیا ہے۔ اسی طرح برطانوی شو کے ایک مقبول پیشکار پیئرز مورگن نے بھی خواہش کا اظہار کردیا ہے کہ وہ آئیندہ برطانوی وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ فارسیسی صدر ہولاندے فرانکوس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی ہے انکا خیال ہے کہ یورپ کو ایک دفعہ پھر خود کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور وزیر دفاع کی طرف سے اس نتیجے کو ایک شاک قرار دیا گیا ہے۔ (تجزیہ: اکرم عابد)