مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایسوسی ایشن آف پاکستان فزیشنز وسرجنز کا سالانہ ڈنر، اداکارہ ریما مہمانوں کی توجہ کا مرکز رہیں
لندن ... برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس نے برطانیہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں ایسی شاندار اور باکمال برادری قرار دیا جو بیرون ملک پاکستان کا صحیح امیج پیش کر رہی ہے۔وہ ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشنز اینڈ سرجنز (اے پی پی ایس)، برطانیہ کے سالانہ ڈنر میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کر رہے تھے۔ ہائی کمشنر نے پاکستان اور دنیا کے دیگر علاقوں کی تنظیموں کے ساتھ مل کر انجام دی جانے والی انسانی فلاحی سرگرمیوں پر اے پی پی ایس کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اصل رخ کی نمائندگی کا بہترین طریقہ ملک کی خدمت ہے۔ پاکستان میں حفظان صحت کے نظام کو بہتر اور جدید بنانے کے لئے آپ کی کوششیں لائق تحسین ہیں جو حکومت پاکستان کی کوششوں کے لئے تقویت کا باعث ہیں جس نے حال ہی میں کم آمدنی والے افراد کے لئے وزیراعظم کی صحت انشورنس سکیم کا اجراء کیا ہے اور صحت کارڈ متعارف کرایا ہے۔ ہائی کمشنر نے مہمانوں کو بتایا کہ حکومت پاکستان نے جینیوا میں ڈائریکٹر جنرل، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے عہدے کے لئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو اپنی امیدوار کے طور پر نامزد کیا ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے حق میں لابی سرگرمیاں کریں۔ اس موقع پر ہائی کمشنر نے پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں برطانوی حکومت کی مدد کو سراہا۔ انہوں نے بریگزٹ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پیدا ہونے والے کاروباری اور سرمایہ کاری مواقع پر بھی اظہار خیال کیا۔ ہائی کمشنر نے شرکاء کو ملک میں مسلسل معاشی افزائش اور سکیورٹی کے ماحول میں بہتری کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے مظلوم کشمیریوں کی خاطر آواز اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جن کے انسانی حقوق بھارت مسلسل پامال کر رہا ہے۔ ہائی کمشنر نے اے پی پی ایس کے عہدیداروں بالخصوص ڈاکٹر ایاز اصغر، چیئرمین اے پی پی ایس اور تقریب کے میزبان ڈاکٹر سہیل چغتائی کے کردار کو سراہا جن کی بدولت میڈیکل برادری کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے ایسی تقریبات میں بعض برطانوی وزراء اور حکام کو بھی مدعو کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ برطانوی معاشرے میں پاکستانی ڈاکٹروں کی مثبت خدمات کے بارے میں جان سکیں۔ پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے پاکستانی کمیونٹی کو ہائی کمیشن کی طرف سے منعقد کی جانے والی تقریبات میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے آئندہ سال ٹریفالگر سکوائر میں تقریب کی سپانسرشپ کی حامی بھرنے پر ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز (ڈبلیو سی او پی) کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشنز اینڈ سرجنز (اے پی پی ایس) اور ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز (ڈبلیو سی او پی) کے درمیان ’چارٹر آف کلیبریشن‘ کا تبادلہ بھی کیا گیا۔(رپورٹ و تصاویر: مونا بیگ)