مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
37000 غیر ملکی مشتبہ کرمنلز کی چھان بین کا فیصلہ، ترجیحی بنیادوں پر ملک بدر کیا جائے گا
لندن ...برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ حکومت جلد ایسے اقدامات کرنے جا رہی ہے جس سے ملک میں موجود ہزاروں غیر ملکی کرمنلز کو ملک بدر کیاجاسکے گا۔ معروف برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق برطانیہ میں 5500منظم جرائم کے گروپ متحرک ہیں۔ افسران جو ان امور کا جائزہ لے رہے ہیں ان کے مطابق 37000ارکان گینگ برطانیہ کو ٹارگٹ کررہے ہیں جن میں سے 7400کو انتہائی خطرناک غیر ملکی کرمنلز قرار دیاگیا ہے۔ وزارت داخلہ کے اقدامات کے تحت پولیس سٹیشنز میں تعینات امیگریشن افسران غیر ملکی مشتبہ کرمنلز کو گرفتار ہوتے ہیں ان کی شناخت اور ملک بدری کی کارروائی شرح کریں گے۔ یہ افسران فوری طورپریہ چیک کریں گے کہ کیا مشتبہ افرادکو ماضی میں بھی کسی جرم میں نامزد کیا گیا یا وہ غیر ملک میں مطلوب یا ملک میں غیر قانون طورپر مقیم ہے۔ ان کے خلاف شواہد ملتے ہی انہیں ملک بدر کردیاجائے گا۔ اس کام کے لئے ہر بڑے پولیس سٹیشن میں امیگریشن انفورسمنٹ افسران تعینات ہوں گے یہ اقدامات پولیس انٹیلی جنس کے اس جائزے کے بعد اٹھائے جارہے ہیں کہ منظم جرائم میں ملوث ارکان کی ایک چوتھائی تعداد سمندر پار قومیت پر مشتمل ہے۔ واضع رہے کہ حال ہی میں وزیر داخلہ تھریسامے نے کینیا میں ایک شاپنگ سنٹر پر قتل عام کے پس پشت گروپ سے تعلق رکھنے والے کم از کم چار افراد کے برطانوی پاسپورٹس قومی سلامتی کو درپیش خطرات کی بنیاد پر منسوخ کر دیئے تھے۔ دہشت گردی سے متعلق لندن کا ایک پانچواں شخص اپنے آبائی ملک ایتھوپیا میں اپنی ڈیپورٹیشن کے احکامات کو انسانی حقوق کے قانون استعمال کرتے ہوئے رکوانے کی کوشش کر رہا ہے۔