مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسئلہ کشمیر کا حل اور مشرف فارمولا !!
کشمیر ایک جذباتی موضوع ہے۔ جس پر ہر کشمیری اور پاکستانی کاایک نقطہ نظر ہے اور 67 سال گزر جانے کے بعد بھی ہم میں سے اکثر اپنے اس نقطہ نظر سے ادھر ادھر نہیں ہوئے کہ کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہئے۔ آزاد کشمیر جس کو تحریک آزادی کے لئے بیس کیمپ بننا چاہئے تھا۔ آج تک نہیں بن سکا ہے۔ تمام حکومتوں نے ماسوائے تھوڑے عرصہ کے لئے جب کے ایچ خورشید (مرحوم) صدر تھے عوام کو سوچنے کے لئے صرف ایک ہی نعرہ الحاق پاکستان دیا۔ خورشید کو ایک مختلف سوچ ابھارنے کے عوض حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس الحاق پاکستان کے نعرہ کے ساتھ ہی انصاف نہیں کر سکے ہیں۔ ورنہ اسی سوچ کے اندر رہتے ہوئے بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا ہے۔ کھربوں روپے کشمیر سیل اور دیگر مصنوعی شعبدہ بازی میں ضائع کئے جا چکے ہیں۔ آج یہ عالم ہے کہ پاکستان میں ہر سطح پہ یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ختم ہو چکا ہے اور ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ کسی بھی طرف سے اس سے اختلافی آواز نہیں آرہی۔ آزاد کشمیر تو وہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ سیاسی قائدین برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی کو چراہ گاہ سمجھتے ہوئے۔ ہم سب کو علم ہے تواتر کے ساتھ آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ بھی بہت حد تک درست ہے کہ بے شمار قائدین کے اپنے عزیز و اقارب بھی اس ملک میں رہتے ہیں۔ لہٰذا ان کا آنا جانا سمجھ میں آتا ہے۔ اور کسی حد تک کمیونٹی کے لئے ایک دوسرے سے ملنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب صدر آزاد کشمیر سے لے کر وزرا تک یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ برطانیہ میں آباد کشمیری مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ان کو یہ علم نہیں کہ برطانوی کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ اس مسئلہ پر پچھلے کم از کم تیس سالوں سے ایک بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ تو پتہ نہیں وہ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ سب لوگ سردیوں میں بریڈ فورڈ سے صبح 2 بجے کوچ میں بیٹھ لندن صبح کامیاب مظاہروں میں شرکت کرتے رہے ہیں اور شاید اگر ضرورت پڑی تو یہ کمیونٹی کل بھی اپنا یہ کردار نبھائے گی۔ آپ کو تو صرف اقتدار پسند ہے۔ اقتدار کے مزے ٹھائیں۔ بیانات میں حقیقت پسندی اختیار کریں۔ اپنی ناکامیاں برٹش کمیونٹی کے گلے میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔ حقائق اکثر کڑوے ہوا کرتے ہیں اور ان کے تسلیم کے لئے جانے سے کئی کے مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا توجہ کسی دوسری طرف کر دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہی کچھ آج کل آزاد کشمیر کی سیاست کے کل پرزے کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستانی سول سوسائٹی اور سیاسی سوچ کی دیانتداری یہ ثبوت مہیا کر رہی ہے کہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اب لوگ تسلیم کر چکے ہیں کہ کشمیر ایک ہارا ہوا معاملہ ہے۔ اور موجودہ لائن آف کنٹرول کو ہی مستقل حل تسلیم کر لیا جائے۔ ورنہ کہیں موجودہ سات اضلاع سے ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔ پاکستان خود اپنی ریاستی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اب آزاد کشمیر میں کسی سیاستدان کو ایسا کہنے کی ہمت نہیں۔ وہ کشمیر کے حصول کے خواب کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اپنی بقا کے لئے۔ ہمیں کیا کرنا چاہئے، اس مسئلہ پر تعمیری اور قابل عمل سوچ کے حامل کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد اس ملک میں موجود ہے۔ لبریشن فرنٹ کی ایک حالیہ آل پارٹی کانفرنس ایک اچھی سوچ ہے۔ لیکن ریجنل لیول پہ مزید ایسی کانفرنس ہونی چاہئیں۔ لگتا یوں ہے کہ نہ تو مکمل الحاق ہوگا اور نہ ہی خود مختاری، تیسرا آپشن جو مشرف فارمولا بھی کہلاتا ہے، موجودہ ماحول میں کچھ نہ کچھ سہارا دیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اجلاسوں میں اس پہ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذمہ داران کے پاس اس کے خدوخال موجود ہیں اور اس سے ملتا جلتا چناب فارمولا جو سردار سکندر حیات خان نے کوئی 20سال قبل پیش کیا تھا بھی قابل غور آنا چاہئے اور برطانوی کمیونٹی ان دونوں تجاویز کی حتمی شکل و صورت بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ دہلی پہ پاکستان جھنڈا لہرانے کی غیر حقیقی سوچ سے اپنے آپ کو دور کرلیں۔ کیونکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ درخواست ان تنخواہ داروں اور مراعات یافتہ طبقہ سے بھی ہے کہ آپ کشمیر پہ اپنا کردار کرنے کے لئے معقول تنخواہیں لیتے ہیں اور دیگر مراعات بھی۔ کروفکر اپنی جگہ ہم برطانوی کشمیری اور پاکستان اس ملک (پاکستان) اور تحریک کے بلاتنخواہ سپاہی ہیں۔ مشرف فارمولا بہت حد تک ریاستی وحدت کو قائم رکھتا ہے۔ اور آمد و رفت کا کھلا سلسلہ شروع کرتا ہے۔ اگر ان دونوں تجاویز پہ بحث آگے بڑھتی ہے تو اس کے لئے بھی اندرون ملک اور یہاں برطانیہ اور یورپ میں اعلیٰ سفارتکاری کی ضرورت ہوگی۔ دفتر خارجہ کے کشمیر سیل کو حکومت میں بڑے لوگوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا ہوگا۔ تب کہیں ہم بھارت کو ہمارا نقطہ نظر سمجھانے اور منوانے میں کامیاب ہو سکیں۔ ورنہ ڈر ہے کہ کہیں موجودہ صورتحال کو مستقل تسلیم کرتے ہوئے اس مسئلہ کا حل نہ بنا دیا جائے اور یہ ہم سب کے لئے بڑے تکلیف دہ لمحات ہوں گے۔ ( اکبر داد خان ... لوٹن)