مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اخراجاتی بل کے اتفاق میں ناکامی ، امریکہ میں جزوی شٹ ڈاؤن پانچویں روز میں داخل
نیو یارک ... امریکہ میں اخراجاتی بل پر اتفاق میں ناکامی کے بعدجزوی شٹ ڈاؤن پانچویں روز میں داخل ہو گیا، جب کہ اس کے فوری خاتمے کے بظاہر کوئی آثار نہیں۔ امریکی کانگریس میں ایوان نمائندگان کا اجلاس آج ہفتے کے روز ہو رہا ہے لیکن اس اجلاس کے دوران بھی کسی پیش رفت کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی بھی ایک متبادل پلان کو ترتیب دینے میں مصروف ہے تاکہ جزوی بندش کا عمل ختم کیا جا سکے۔ کانگریس میں بجٹ معاملات پر پیدا شدہ اختلاف کے بعد امریکی وفاقی حکومت کے اداروں کی جزوی بندش پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے جس میں ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر فنڈ روکنے کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد ملک بھر میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ ریپبلیکنز کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان نے پیر کو تین مرتبہ اخراجاتی بل منظور کیا جس سے صحت عامہ سے متعلق اوباماکیئر نامی قانون موخر ہو جائے گا۔ لیکن ڈیموکریٹس کی اکثریت والی سینیٹ نے تینوں دفعہ انتہائی قلیل مدت میں اس کو مسترد کر دیا۔ نصف شب سے کچھ دیر قبل وائٹ ہاؤس کی بجٹ ڈائریکٹر سیلویا بُرویل نے وفاقی اداروں کو ’’مرحلہ وار شٹ ڈاؤن کے منصوبے پر عملدرآمد‘‘ کا ایک ہدایت نامہ جاری کیا۔ اس اقدام سے تقریباً آٹھ لاکھ سرکاری ملازمین متاثر ہوں گے۔ متاثر ہونے والے وفاقی سرکاری اداروں میں نیشنل پارک سروس، ٹریفک سیفٹی ایجنسیز اور محکمہ دفاع شامل ہیں۔ اس ہدایت نامے سے متاثر ہونے والوں میں اکثریت سول ملازمین کی ہو گی۔ ہوم لینڈ سکیورٹی ایجنٹ، بارڈر سکیورٹی کے دفاتر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کام کرتے رہیں گے۔ صدر براک اوباما نے کہا تھاکہ امریکی افواج کے اہلکار اپنے فرائض انجام دیتے رہیں اور تمام جاری کارروائیاں بشمول جو افغانستان میں تعنیات ہیں، اپنا کام جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک بل پر دستخط کریں گے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ افواج کے ارکان کو تنخواہوں کی ادائیگی ہوتی رہے۔ انھوں نے کانگریس سے شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے کام کرتے رہنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔