مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
غبن اور فراڈ کےپرانے کیس میں بھارتی عوامی رہنما لالو پرسادکو 5 سال قید کی سزا
نئی دہلی ... غبن اور فراڈ کے ایک پرانے کیس میں عوامی بھارتی رھنما بھارت کے سابق وزیر برائے ریلوےلالو پرساد یادیو کو سپریم کورٹ نے پانچ سال قید کی سزا سنا ئی ہے۔جس کے تحت لالو پرشاد اپنی پارلیمانی سیٹ سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔ بھارت کے مشرقی شہر رانچھی کی عدالت کی طرف سے لالو پرشاد کے خلاف ان سزاؤں کا اعلان اُن پر لگے کرپشن جیسے الزامات کے تحت کیا گیا ہے۔ لالو پرشاد ماضی میں صوبہ بہار کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چُکے ہیں۔ اُس دور میں انہوں نے مویشیوں کے چارے کے لیے مختص سرکاری فنڈ میں سے 377 ملین بھارتی روپے یا 5.9 ملین ڈالر کی ہیرا پھیری کی تھی۔ معاملہ 1996 کا ہے اور اسے چارا گھپلے کے نام سے جانا جاتاتھا۔ بد عنوانی کے اس معاملے میں لالو اور بعض دوسرے سیاست دانوں اور اعلیٰ افسروں پر اربوں روپے کے خرد برد کا الزام تھا ۔ رانچی کی ایک ذیلی عدالت نے اس مقدمے میں لالو اور 40 سے زیادہ اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں کو قصوروار قرار دیا ۔ عدالت سزاؤں کی مدت پر کل غور کرے گی اور تین اکتوبر کو سزاؤں کی مدت کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ انہیں تین برس سے زیادہ کی سزا ہو گی۔ لالو پرساد پر براہ راست خرد برد کا الزام نہیں ہے لیکن انہیں مجرمانہ سازش کرنے، بطورِ وزیر اعلیٰ غبن کا علم ہوتے ہوئے بھی اسے روکنے کے لیے کچھ نہ کرنے اور قصورواروں کو تحفظ فراہم کرنے کا مجرم پایا گیا ہے۔ بدعنوانی کے مقدمے میں سزایاب ہونے کے ساتھ ہی لالو کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہو جائے گی اور وہ آئندہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ لالو پرساد نے بھارت ریلوے کو تباہی کی حالت سے نکال کر منافع بخش ادارے میں تبدیل کیا تھا اور خطے میں خوب نام کمایا تھا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بی جے پی کی ترجمان نرملا سیتا رمن نے عدالت کے فیصلے کو ’بھارت کی سیاسی تاریخ میں سنگ میل قرار دیا ہے۔ لالوپرساد کی حریف جماعت جنتا دل یونائٹڈ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بہت تاخیر سے آیا لیکن اس کی ضرورت تھی۔ جنتا دل کے ایک دیگر رہنا صا بر علی نے کہا کہ ’اس فیصلے سے یہ پیغام جائےگا کہ بڑے سے بڑے سیاسی رہنماؤں کو بھی سزا مل سکتی ہے۔