مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نواشریف کی کشمیر دوستی سرآنکھوں پر لیکن پاکستان کو آگے بڑھ کر کام کرنیکی ضرورت ہے:صابر گل
لندن:دنیا بھر کی کشمیری قوم وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے یو این او پر اصولی موقف اپنانے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ باور کراتی ہے کہ بھارت جیسے ملک کے مقابلے میں اتنا کافی نہیں، کشمیریوں کی آزادی کیلئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہارجموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر صابر گل اور سیکرٹری جنرل سید تحسین گیلانی نے فرنٹ کے انٹرنیشنل سیکرٹیریٹ آفس، لندن میں ایک پریس کانفرنس میںکیا۔معروف کشمیری رہنما محمود حسین، لطیف بٹ اور پروفیسر ارشاد ملک بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صابر گل کا کہنا تھاکہ عالمی میڈیا کی توجہ شام اور دیگر جگہوں پر موکوز ہے اور ادھر کشمیری شہریوں پر بھارتی یلغار اپنے زوروں پر ہے۔ وادی کشمیر اور جموں ریجن کے بعض علاقوں میں مسلسل کرفیو اور قتل وغارت کو آج 81 دن ہو چکے ہیں، نقل وحرکت کی آزادی اور اظہار کی آزادی کو نہتے شہریوں کے خلاف بہیمانہ اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے روکا جا رہا ہے جو کشمیر میں بھارتی اقتدار کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ پریس نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ 8 جولائی سے اب تک خواتین اور بچوں سمیت 82 شہری مظاہرین قابض فوج کی بے دریغ فائرنگ کے ہاتھوں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ بغیر آزمائش کے پیلٹ بندوقوں کا بے مثال طریقے سے استعمال انہیں ترک کرنے کے وعدوں کے باوجود آج بھی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان بندوقوں کے بھارتی تیار کنندہ کا کہنا ہے کہ یہ بندوقیں انسانی استعمال کے لئے ٹیسٹ نہیں کی گئیں۔ یہ بنیادی طور پر جانوروں کے شکار کے لئے بنی ہیں لیکن کٹھ پتلی ریاستی حکومت نے اپنے لوگوں کو تحفظ دینے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ہسپتال اٹھارہ ہزار زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں سے زیادہ تر جواں سال ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے علاج کی کم سے کم قیمت دو سے تین لاکھ روپے فی کس ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تین سو سے زائد ایسے ہیں جو پھر کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔ پریس نوٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ 2014 کی انتفاضہ میں 102 شہریوں کا قتل عام کیا گیا لیکن کسی کا بال تک بیکا نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا کیونکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کو ڈریکولائی قانون اے ایف ایس پی اے کے تحت 1990 سے جموں وکشمیر میں قانونی کارروائی سے خصوصی استثناء حاصل ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ایک طرف انسانیت اور جمہوریت جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے مسلح افراد کو بستیوں میں تعینات کرنے کا اختیار دیا اور سپیشل ٹاسک فورس کو دوبارہ فعال بنا دیا جسے قبل ازیں آزادی کے حامی کارکنوں کو ہراساں اور گرفتار کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ پریس نوٹ کے مطابق یہ بھی سامنے آیا ہے کہ محبوبہ مفتی کی زیرقیادت کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے اپنے لوگوں کو پیلٹ گولیوں کے متاثرین کے گھروں اور ہسپتالوں میں بھیجا گیا جہاں انہوں نے حریت رہنمائوں کے خلاف بات کرنے پر لاکھوں روپے کی رشوت کی پیشکشیں کیں لیکن کسی نے ان کی نہ سنی۔ اس وقت سے مظاہرے جموں کے کشتواڑ اور راجوڑی ضلع میں بھی پھیل چکے ہیں۔ یہ نئی انتفاضہ نہیں۔ کشمیری 1984 سے سڑکوں پر ہیں۔ پریس نوٹ میں کہا گیا کہ 8 جولائی سے اب تک جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک اور صدر نور محمد کلوال، بشیر بھٹ اور یاسین بھٹ سمیت چھ ہزار سے زائد کشمیری طلبہ، کارکنوں، رہنمائوں، وکلاء اور حتیٰ کہ حفظان صحت کے کارکنوں کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دل کے عارضہ کے باعث یاسین ملک کی حالت تشویش ناک ہے لیکن انہیں علاج سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ پریس نوٹ میں ان کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ دو ہفتے قبل انسانی حقوق کے ایک وکیل خرم پرویز جو یو این ایچ سی آر کا دورہ کرنے والے تھے، کو دہلی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا اور ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پریس نوٹ میں باور کرایا گیا کہ بھارت یو این ایچ سی آر کو جموں وکشمیر میں حقائق تک رسائی دینے سے انکار کر چکا ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کے پاس چھپانے کو بہت کچھ ہے۔ یاسین ملک کو اس لئے حراست میں لیا گیا کہ وہ دو حریت دھڑوں کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے اور خرم پرویز اس لئے جیل میں ہیں کہ انہوں نے بھارتی ’انسانیت اور جمہوریت‘ کا نشانہ بننے والوں کے بارے میں قابل اعتبار شواہد اور ثبوت جمع کر لئے تھے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ کشمیر کی تحریک آزادی کے ایک رہنما مقبول بٹ شہید کو تہاڑ جیل میں دی گئی پھانسی کو بتیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کی میت آج بھی تہاڑ کی قیدی ہے۔ گزشتہ سال برطانیہ اور یورپی پارلیمنٹ کے ساٹھ ارکان نے بھارتی صدر پرناب مکرجی کے نام ایک مشترکہ خط میں ان سے کہا تھا کہ وہ مقبول بٹ کا جسد ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کی اجازت دیں لیکن مودی کے بھارت نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ پریس نوٹ میں اجتماعی قبروں کے مسئلے پر بھی بات کی گئی اور بتایا گیا کہ دس سال پہلے شمالی کشمیر سے ملنے والی سات ہزار بے نام قبروں کا معمہ آج تک حل نہیں ہو پایا حالانکہ انسانی حقوق کمیشن اس پر کوششیں کر چکا ہے اور سری نگر ہائی کورٹ حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ و ہ ان میتوں کی شناخت کرے ا ور انہیں موزوں طریقے سے دفن کرے۔ پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ہمیں جہاں حق خودارادیت کے حق میں پاکستان کی سفارتی مہم پر تحفظات لاحق ہیں وہیں ہم وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی جانب سے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جموں وکشمیر سے فوجیں واپس بلانے کی حقیقی پیشکش اور اقوام متحدہ سے ایک تحقیقاتی مشن بھجوانے کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہیں او ر امید کرتے ہیں کہ وہ اس پیشکش میں پاکستانی کنٹرول میں آنے والے آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو بھی شامل کر رہے ہیں۔ پریس نوٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ روز بھارتی سیکرٹری خارجہ سشما سوراج نے اسی فورم پر کھڑے ہو کر اس پیشکش کا مذاق اڑایا اور بڑی بے شرمی سے ہر اس چیز کو پامال کیا جس کی یہ معزز ادارہ علامت ہے جس میں اقوام متحدہ کی ان تاریخی قراردادوں کا مذاق اڑانا بھی شامل ہے جسے بھارت اور پاکستان دونوں نے تسلیم کیا اور جو جموں وکشمیر کو کسی ملک کا حصہ تسلیم نہیں کرتیں۔ پریس نوٹ میں تشویش ظاہر کی گئی کہ بین الاقوامی برادری بشمول برطانیہ، یورپ اور امریکہ بھارت کو اس بات پر قائل کرنے کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی طرف آئے بلکہ انہیں بھارت (اور پاکستان) کو فوجی سامان بیچنے سے زیادہ دلچسپی ہے حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ دونوں ملک تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اگر مسئلہ کشمیر تصفیہ طلب رہا تو چوتھی جنگ ناگزیر ہو گی۔ اس میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ اور یورپ میں مقیم بڑی تعداد میں کشمیری تارکین وطن اور متعدد ایم پیز اور ایم ای پیز اس بات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر اقوام متحدہ اور بااثر عالمی قوتیں حق خودارادیت اور بھارت کی طرف سے اسے وحشیانہ انداز میں دبانے کے اس بنیادی مسئلے پر خاموش رہے تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بڑھتی جائیں گی اور کشمیری شہری مظاہرین کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کے پریشان کن امکانات پیدا ہو جائیں گے جو کسی بھی صورت بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔