مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایران کی خارجی معاملات میں لچک کی لہر سعودی عرب تک پہنچ گئی ۔۔!!
تہران ... ایران کی طرف سے امریکہ کی جانب جھکائو محض جزباتی فیصلہ نہیں لگتا کیونکہ واضع ردعمل کے باوجود اب ایران نے سعودی عرب سے تعلقات بہتر کرنے کا بھی عندیہ دیدیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کو خیر سگالی کا ایک پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے اس میں تہران اور خلیجی ممالک کے مابین تعاون کے فروغ کی بات کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کے بعد خلیجی ممالک کو بھی تہران کے ساتھ تعقات کو بہتر کرنے کے بارے میں سوچنا پڑے گا اور مطلق العنان حکمرانوں اور شیخوں کے لیے آسان کام نہیں ہو گا۔ خلیجی ممالک بے شک خطے میں امریکا کی سیاسی اور عسکری موجودگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس خطے میں امریکا کی کئی چھاؤنیاں قائم ہیں اور دبئی میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا ایک دفتر بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایران سے ممکنہ خطرات کی وجہ سے بھی خلیجی ممالک اور امریکا ایک دوسرے کاساتھ دیتے رہے ہیں۔ تاہم اگر تہران اور واشنگٹن کے مابین ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر براہ راست بات چیت شروع ہو جاتی ہے اور یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو خطے میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ دبئی میں سیاسی اور سلامتی کے امور کے ماہر تھیوڈور کاراسک کہتے ہیں، ’’خلیجی ممالک اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات میں نزدیکی ایران سے متعلق تشویش کی وجہ سے زیادہ مضبوط ہے۔ خلیجی ممالک کو امریکی اسلحے کی برآمد، تیل بردار جہازوں کی حفاظت جیسے معاملات کی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اچانک امریکا اورایران کے براہ راست مذاکرات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے واشنگٹن کے خلیجی ساتھی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی اس معاملے میں پذیرائی نہیں کی گئی۔