مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
ایران کی خارجی معاملات میں لچک کی لہر سعودی عرب تک پہنچ گئی ۔۔!!
تہران ... ایران کی طرف سے امریکہ کی جانب جھکائو محض جزباتی فیصلہ نہیں لگتا کیونکہ واضع ردعمل کے باوجود اب ایران نے سعودی عرب سے تعلقات بہتر کرنے کا بھی عندیہ دیدیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کو خیر سگالی کا ایک پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے اس میں تہران اور خلیجی ممالک کے مابین تعاون کے فروغ کی بات کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کے بعد خلیجی ممالک کو بھی تہران کے ساتھ تعقات کو بہتر کرنے کے بارے میں سوچنا پڑے گا اور مطلق العنان حکمرانوں اور شیخوں کے لیے آسان کام نہیں ہو گا۔ خلیجی ممالک بے شک خطے میں امریکا کی سیاسی اور عسکری موجودگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس خطے میں امریکا کی کئی چھاؤنیاں قائم ہیں اور دبئی میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا ایک دفتر بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایران سے ممکنہ خطرات کی وجہ سے بھی خلیجی ممالک اور امریکا ایک دوسرے کاساتھ دیتے رہے ہیں۔ تاہم اگر تہران اور واشنگٹن کے مابین ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر براہ راست بات چیت شروع ہو جاتی ہے اور یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو خطے میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ دبئی میں سیاسی اور سلامتی کے امور کے ماہر تھیوڈور کاراسک کہتے ہیں، ’’خلیجی ممالک اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات میں نزدیکی ایران سے متعلق تشویش کی وجہ سے زیادہ مضبوط ہے۔ خلیجی ممالک کو امریکی اسلحے کی برآمد، تیل بردار جہازوں کی حفاظت جیسے معاملات کی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اچانک امریکا اورایران کے براہ راست مذاکرات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے واشنگٹن کے خلیجی ساتھی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی اس معاملے میں پذیرائی نہیں کی گئی۔