مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کروانے کیلئے کردار ادا کرے:چوہدری محمد یاسین
بریڈ فورڈ:برطانوی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کروانے کیلئے بھارت سے اپنا سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرے،کشمیریوں کی جدو جہد آزادی برصغیر کی تحریک آزادی کا نا مکمل ایجنڈا ہے جسے برطانیہ کی نئی نسل کی سیاسی قیادت کو حل کروانے میں معاونت کرنی چاہئے،مسئلہ کشمیر کوعالمی سطح پر بھارت نے پہنچایا ہے اور عالمی برادری کو اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد پر مجبور کرنا چاہئے اگر برطانیہ کی تمام سیاسی قیادت مڈل ایسٹ میں براہ راست مداخلت کر سکتی ہے تو ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کے حصول میں کیوں معاونت نہیں کر سکتی،مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے حل ہونیوالا نہیں مگر برطانیہ بھی اس کے ایک اہم فریق کی حیثیت سے موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے،ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین نے کیتھلے سے کنزرویٹو پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اور برطانوی حکومت کے آئر لینڈ کے بارے میں وزیر کرس ہوپکنز کی طرف سے دیئے گئے عشائیے کے موقع پر کیا جس کا اہتمام تحریک حق خود ارادیت یورپ کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کیا تھا،تقریب میں کنزرویٹو پارٹی کے صدر جیری یٹیس،سابق وزیر دفاع سر نکلس ایم پی،کنزرویٹو پارٹی کے بریڈ فورڈ اور کیتھلے کے چیئرمین کے علاوہ تحریکی رہنمائوں راجہ نجابت حسین،سردار عبدالرحمان خان،چوہدری محمد اکرم،چوہدری غلام رسول،محمد ناظم،علی اکبر چشتی،پی ایف یو جے کے صدر محمد افضل بٹ و دیگر نے شرکت کی،چوہدری محمد یاسین کنزرویٹو رہنمائوں سے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو،کشمیری لیڈر شپ کی حراست اور گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بعد برطانیہ کشمیری عوام کا دوسرا گھر ہے جس میں سب سے زیادہ کشمیری رہتے ہیں اور جس طرح ہمارے آبائو اجداد تے دونوں عالمی جنگوں میں برطانوی افواج میں شامل ہو کر اور اس ملک کیلئے قربانیاں دے کر جھنڈا اونچا رکھا تھا اسی طرح ہم برطانوی حکومت سے توقع کریں گے اس ملک میں بسنے والے کشمیریوں کی نمائندگی کرے برطانوی حکومت سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور ایک عالمی اقتصادی قوت ہونےکی حیثیت سے بھی مسئلہ کشمیر کے حل میں براہ راست مداخلت کرے،چوہدری محمد یاسین نے کہا کشمیری قوم کوآزادی دلوانے کی برطانیہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے،اس سے قبل راجہ نجابت حسین نے ممبران پارلیمنٹ اور کنزرویٹو عہدیداروں کو برٹش کشمیریوں کی طرف سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اندر اپنا خصوصی کردار ادا کرے،ہمیں بھارتی مظالم سے نجات دلائیں،کرس ہوپکنز ایم پی نے کہا کہ تحریکی وفد کی گزشتہ ملاقات کے بعد انہوں نے دیگر کنزرویٹو ممبران پارلیمنٹ سے مل کر برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کو تفصیلی خط لکھا تھا اورحالیہ ملاقات پر نہ صرف وزیر اعظم سے مسئلہ کشمیر اٹھائوں گا بلکہ پارٹی کانفرنس کے علاوہ دیگر پروگراموں میں شریک ہوکر کشمیریوں کیلئے اپنی جاری معاونت جاری رکھوں گا،انہوں نے اس موقع پر چوہدری محمد یاسین کو یقین دلایا کہ وزیر خارجہ اور وزیر اعظم سے ملاقاتوں کے بعد وہ کیتھلے میں ایک خصوصی ملاقات میں مسئلہ کشمیر بریفنگ دیں گے اور اپنی سرگرمیوں اور تعاون کے حوالے سے مزید مشاورت کریں گے۔بیورو رپورٹ:فیاض بشیر