مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر کا مقدمہ مناسب انداز میں لڑا، وزیر اعظم پاکستان کی لوٹن ایئر پورٹ میں صحافیوں سےگفتگو
لندن: وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، اڑی حملہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے تشدد کا ردعمل ہو سکتا ہے، پاکستان اور بھارت کومسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مل بیٹھنا چاہیے، جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ مناسب انداز میں لڑا، توقع ہے کہ اسلام آباد میں ہونیوالے سارک سربراہ اجلاس میں تمام سربراہان مملکت شرکت کریں گے، بلوچستان کا شوشہ چھوڑا گیا جسے کوئی نہیں مانتا، سی پیک منصوبے کو اللہ نظر بد سے بچائے، مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے دھرنے کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالیں، ہم دھرنوں اور مارچوں سے بھاگنے والے نہیں ہیں، بھارت اپنے مظالم پر بات نہیں کرتا صرف الزام لگاتا ہے، آزاد کشمیر میں صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی سمیت ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کریں گے، آزاد کشمیر میں بنیادی ڈھانچے بالخصوص سڑکوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، بلوچستان سی پیک کا مرکز ہے۔ وہ لندن آمد پر لوٹن ایئر پورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ہر فورم پر ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ لندن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کے امکان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال اور مشاورت جاری رہنی چاہیئے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ہم جمہوری روایات کے علمبردار ہیں، آصف علی زرداری اپنی مدت پوری کرنے کے بعد عزت و احترام سے اقتدار کی منتقلی کر کے گئے، ہم نے بھی ان کی حکومت کو غیر مستحکم نہیں کیا، ہمیں اس کی خوشی ہے، سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت رہنی چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم آج بھی تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے کشمیریوں کے دل دکھی ہیں، ہزاروں کشمیری تشدد سے زخمی ہوئے ہیں، 150 سے زائد بینائی سے محروم ہوئے ہیں، اڑی حملہ ان مظالم کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے جن کے قریبی رشتہ دار اور پیارے گزشتہ دو ماہ کے دوران قتل کئے گئے ہیں اور انہیں بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے، اس سے کشمیریوں کے دل دکھی ہیں، اڑی حملے کے فوراً بعد تحقیقات کئے بغیر پاکستان پر الزام لگانا درست نہیں ہے،یہ بھارتی الزامات غیر ذمہ دارانہ اور بغیر کسی ثبوت کے لگائے گئے۔جب وزیراعظم سے یہ سوال پوچھا گیا کہ بھارتی وزیراعظم پر دباؤ ہے کہ وہ سارک سربراہ کانفرنس میں شریک نہ ہوں تو اس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سارک سربراہ کانفرنس کے انعقاد کیلئے تیاریاں جاری ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے کہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں تمام سربراہان مملکت شریک ہونگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی مذاکرات ہوئے تو کشمیر پر گفتگو ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کو اللہ نظر بد سے بچائے، بلوچستان سی پیک منصوبے کا مرکز ہے، بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، جدید گوادر ایئر پورٹ بن رہا ہے، یہاں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ ہے، یہاں جدید یونیورسٹی بن رہی ہے، بجلی کے منصوبے لگ رہے ہیں، ماضی میں کسی حکومت نے بلوچستان پر اتنی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کو خنجراب سے ملائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں شرح تعلیم ملک کے دیگر حصوں سے بہتر ہے، یہاں پر یونیورسٹی قائم کریں گے، آزاد کشمیر کی حکومت سے ترقیاتی منصوبوں پر بات کی ہے، جلد آزاد کشمیر کا دورہ کر کے اہم فیصلے کروں گا۔ وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ سمیت تمام دنیا بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے بلوچستان کے مسئلے پر یقین نہیں کرتی۔وزیراعظم نے کہا کہ کچھ لوگوں کو بلوچستان کی ترقی کھٹکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تمام اہم امور پر پاکستان کا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دیکھے ہیں، 108 کشمیریوں کو شہید کیا گیا یہ بربریت نہیں تو اور کیا ہے؟، اڑی حملہ کشمیریوں کا ردعمل ہو سکتا ہے، واقعہ کی تحقیقات ہوئی نہیں تو پاکستان پر الزام کیسے لگا دیا گیا؟۔ وزیراعظم نے کہا کہ سمجھدار ذہن اس بات کو نہیں مانتے کہ ادھر حملہ ہوا اور ادھر پاکستان پر الزام لگا دیا، پہلے اس کی تحقیقات کرائی جائیں اور مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے 108 لوگوں کی شہادت کی بھی تحقیقات کرائی جائیں، بھارتی فوج کے مظالم سے معصوم کشمیریوں کے دل زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر اس خطے میں دائمی امن قائم کرنا مشکل ہے، پاکستان اور بھارت کو کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے مل بیٹھنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سارک کا معاملہ باہمی نہیں بلکہ علاقائی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن پارٹی ہدایت پر مکمل عمل کرتے ہیں، ڈنڈا بردار فورس کے بارے میں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بیان دے دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان کی بہتری کیلئے متحد ہونا چاہیئے۔ اس موقع پر وہاں موجود صحافیوں نے کشمیر کا مقدمہ مدلل اور بھرپور انداز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھانے پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔