مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اسلامک ریلیف کے نمائندوں کی یوکے ڈائریکٹر عمران مدن کے ہمراہ پریس کانفرنس
لندن:فنڈز کی مسلسل کمی کے اس عالم میں ملازمتیں تلاش کرنے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے اور انہیں محفوظ رکھنے کی جستجو میں شامی خواتین کی حالت ایسی ہو کر رہ گئی ہے کہ جیسے وہ کسی جیل میں ہوں۔ عراق کے باسیرما کیمپ میں مقیم اٹھائیس سالہ روکسان سلیمان کے مطابق کیمپ سے باہر خواتین اپنے اندر اعتماد محسوس کرتی ہیں نہ اطمینان۔ کہیں تشدد سے واسطہ نہ پڑ جائے۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ مجھے ڈینٹسٹ کے پاس جانا تھا لیکن میری والدہ میرے ساتھ نہیں جا سکتی تھیں اور میں اکیلے نہیں جا سکتی تھی۔ یہ کسی جیل کی مانند ہے۔ یہ احوال اسلامک ریلیف کی جانب سے شائع کی گئی ایک نئی رپورٹ میںکیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار چیریٹی کے نمائندوں نے اپنے یوکے ڈائریکٹر عمران مدن کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا جس کے مطابق فنڈز کی مسلسل کمی کی وجہ سے شامی پناہ گزین خواتین کی زندگیاں پڑوسی ممالک عراق اور لبنان میں اجیرن میں ہو کر رہ گئی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے حالات سے ایسے لگتا ہے جیسے وہ کسی جیل میں رہتے ہوں کیونکہ ان کے لئے تو گزراوقات ہی مشکل ہو کر رہ گئی ہے، جن خاندانوں کے اہم افراد فوت ہو چکے ہیں انہیں اپنے رشتہ داروں سے دور رہنے میں مشکلیں پیش آ رہی ہیں، بچوں کے لئے محفوظ نگہداشت میں مشکلیں پیش آ رہی ہیں، ہراساں کرنے والوں سے نمٹنا پڑتا ہے، اپنے بچوں کو سکول بھیجنے اور اپنی زندگیاں دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔ اسلامک ریلیف برطانیہ کے ڈائریکٹر عمران مدن نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی لبنان اور عراق دونوں اپیلوں میں فنڈز کی سب سے زیادہ کمی ذرائع معاش کے شعبے میں ہے۔ اکیلی خواتین، جن میں سے اکثر کو روزگار کی ضرورت ہے، آج لبنان، اردن اور ترکی میں مقیم ایک چوتھائی سے زائد شامی پناہ گزین گھرانوں کی سربراہ ہیں اور صرف لبنان میں بیس فیصد گھرانوں کی سربراہ اکیلی خواتین ہیں۔ یہ باوقار اور عزت دار خواتین ہیں جو آج نہ صرف پناہ گزین بن کر رہ گئی ہیں بلکہ اپنے بل ادا کرنے اور اپنے گھروں کا خیال رکھنے کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں جبکہ آس پاس روایتی حالات میں ان کی مدد کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ انہیں کئی طرح کے خطرات درپیش ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے۔ لبنان میں مقیم تقریباً 52 فیصد شامی پناہ گزین اور عراق میں 44 فیصد خواتین اور بچیاں ہیں اور ان کے حالات بگڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق آمدنی کی سطح کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یہ گھرانے انتہائی مفلسی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ کی شریک مصنفہ اور اسلامک ریلیف کی ایڈووکیسی مینجر ہیلن سٹاسکی نے بتایا کہ عراقی کردستان میں پہنچنے کے بعد صرف آٹھ فیصد خواتین ایسی ہیں جن کا واسطہ کسی طرح کی جسمانی یا زبانی بدسلوکی سے نہیں پڑا اور پہلے جو خواتین شام میں آزادی سے چل پھر سکتی تھیں آج انہیں اپنے مرد رشتہ داروں کے ساتھ گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے بشرطیکہ وہ زندہ ہوں۔ کیمپوں میں مقیم خواتین کو اکثر ناقص روشنی والے وہی غسل خانے استعمال کرنا پڑتے ہیں جنہیں مرد بھی استعمال کرتے ہیں اور اگر خوش قسمتی سے کہیں کام مل جائے تو وہاں ہراساں کئے جانے کا خطرہ رہ جاتا ہے۔ ہمیں ان کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ شامی خواتین کو درپیش سب سے بڑے چیلنج اچھی ملازمت کی تلاش، خواتین کے خلاف تشدد اور بچوں کی تعلیم سے متعلق ہیں۔ عمدہ تعلیم یافتہ خواتین اکثر ٹیچنگ اور ریٹیل جیسے شعبوں تک ہی محدود رہ جاتی ہیں۔ ان کے لئے بہترین موقع یہی ہے، جو ان میں سے زیادہ تر کو میسر نہیں ہے، کہ کم تنخواہ والی ملازمتیں کریں۔ خواتین کو کام پر، گھروں میں، عوامی مقامات پر یا ان کے شوہر، خاندان کے مرد ارکان، ان کے ساتھی، پڑوسی، پولیس، سرکاری ملازمین اور این جی او عملہ ہر کوئی ہراساں کرتا ہے۔ اکثر شامی خاندان ٹرانسپورٹ یا کپڑوں کے اخراجات بھی ادا نہیں کر سکتے اور ان کے بچوں کو وہ زبان سمجھ نہیں آتی جو سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے جبکہ والدین خوفزدہ ہیں کہ ان کے بچے سکولوں میں غیرمحفوظ ہیں۔ اسلامک ریلیف ملازمت، خواتین کے خلاف تشدد اور تعلیم کے تین شعبوں میں تبدیلی لانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔