مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مزیدرازوں سے پردہ اٹھانے کیلئےمشرف نے "میں پاکستان واپس کیوں آیا" لکھنے کا آغاز کر دیا
اسلام آباد... سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے وطن واپسی کے رازوں سے پردہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس مقصد کیلئے انہوں نے ایک کتاب لکھنا شروع کی ہے ”میں پاکستان واپس کیوں آیا؟“ جس میں وہ وطن واپسی کے فیصلے کے بارے میں تمام تر تفصیلات سے قوم کو آگاہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں وہ ان حالات کا ذکر کر رہے ہیں کہ وہ وطن واپس کیوں آئے۔ ذرائع کے مطابق ان کا موقف ہے کہ ملک میں انتشار کی کیفیت تھی اور اسے کنٹرول کرنے میں قومی قیادت ناکام نظر آ رہی تھی اس لئے انہوں نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کتاب جلد منظر عام پر آنے کا امکان ہے جس میں پرویز مشرف اپنے ان دوستوں اور عالمی رہنماﺅں کا بھی ذکر کر رہے ہیں جنہوں نے واپس نہ آنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ طالبان کی دھمکیوں، ایک بظاہر مخالف عدلیہ اور سیاسی طور پر بھی بڑی تعداد میں مخالفین موجود ہونے کے باوجود وطن واپس آنے کے تمام تر حالات کا ذکر کریں گے۔ پرویز مشرف ان دنوں اسلام آباد میں اپنے فارم ہاوس میں زیر حراست ہیں جسے سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے اور ان پر بے نظیر قتل کیس، اکبر بگٹی قتل کیس، ججوں کو زیر حراست رکھنے اور دیگر کئی مقدمات زیر التواء ہیں۔ نواز شریف حکومت آنے سے چند روز پہلے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ حکومت کے برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی پرویز مشرف بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے لیکن پرویز مشرف کے قریبی ذرائع کہتے تھے کہ وہ کسی صورت بھی بیرون ملک نہیں جائیں گے