مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال کی طرف سے نسیم اشرف اور قاری محمد بلال کو تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ریاست نہیں شریف برادران کیخلاف عالمی اداروں سے رجوع کر رہے ہیں:ڈاکٹر طاہر القادری
لندن:پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے وزیراعظم نواز شریف کے اپنے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں، یہ سانحہ ماڈل ٹائون میں براہ راست ملوث ہیں۔مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ کس منہ سے لڑیں گے ۔ اگر ملک پاناما لیکس کے انکشافات سے عالمی سطح پر بدنام نہیں ہوا تو انصاف مانگنے سے کیوں ہو گا؟ہم ریاست نہیں شریف برادران کی حکومت کے خلاف انصاف کے عالمی فورم سے رجوع کررہے ہیں۔لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل، انگلش ہائیکورٹ اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹائون کیس لیجانے کیلئے لا فرم کی خدمات حاصل کر لی ہیں، اخراجات کیلئے اپنے کارکنوں سے فی کس 10 یورو کی اپیل بھی کی تو پورے ہو جائینگے ۔انہوں نے کہاپنجاب حکومت نے ابھی تک رینجرز کو آپریشن کے اختیارات نہیں دئیے ، یہ اختیارات دینے سے پہلے درجہ اول کے دہشت گردوں کو بھگارہے ہیں۔سانحہ ماڈل ٹائون کے اہم کردار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے پروں کے نیچے اعلیٰ عہدوں پر فائز کررکھے ہیں۔ ڈی آئی جی رانا عبدالجبار، ایس پی سلمان، ایس پی عبدالرحیم شیرازی، ایس پی عمر ریاض چیمہ کو دو دو سال کی چھٹی دے کر اور ان کے ویزے لگوا کر انہیں پاکستان سے فرار کروا دیا گیا۔میری اطلاع کے مطابق یہ افسر بیرون ملک سیاسی پناہ کے کیس تیارکررہے ہیں۔ڈاکٹر توقیر شاہ کو جنیوا بھیج دیا گیا ، شریف برادران نے انہیں فرار کروایا کہ کہیں یہ انکے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بن جائیں۔شریف برادران کا دامن صاف ہوتا تو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے سے انکار نہ کرتے ۔تفتیش اور ٹرائل کے حکومتی ادارے شریف برادران کی مٹھی میں ہیں اس لیے انصاف نہیں مل رہا۔جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں یہ لکھا گیا ہے کہ پولیس نے وہی کیا جس کا حکم اسے پنجاب حکومت سے ملا۔انہوں نے کہا وزیراعظم کلبھوشن یادو کا کیس تو پاکستان کے اندر لڑ نہیں سکے اور کئی کلبھوشن ان کی ملوں میں کام کرتے ہیں ،میں نے 300 انڈین کی نشاندہی کی جن میں سے 50 کی فہرست بھی جاری کی آج تک اس کی تردید نہیں آئی۔شریف برادران کا اقتدار ملک اور قوم کیلئے خطرناک ہے ۔میرے لیے بھی یہ ایک سوال ہے کہ ملکی ادارے شریف برادران کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کو دہشت گردوں کا نظریاتی بیس کیمپ بنادیا گیا۔رینجرز آپریشن شروع ہونے سے پہلے سینکڑوں دہشت گردوں کو پولیس نے ادھر ادھر کر دیا۔ پاکستان کی عدالتوں میں اس سے پہلے مسنگ پرسنز کے کیس سنے جارہے تھے اب رینجرز آئے گی تو وہ مسنگ دہشت گردوں کو تلاش کرے گی۔شریف برادران رینجرز کو صرف گمشدہ دہشتگردوں کی تلاش کے کام تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔دہشت گردوں کے سہولت کار اقتدار میں بیٹھے ہیں ان کے ہوتے ہوئے دہشتگردی ختم نہیں ہو گی۔