مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دونوں ممالک کی عوام اور افواج کی مرضی کے بغیرمنموہن سنگھ اور نواز شریف کی ملاقات
نیویارک میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ امن بات چیت میں پیش رفت کے لیے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حملوں کو روکنا ضروری ہے۔ بھارتی وفد میں شامل قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات میں یہ طے پایا ہے کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے ڈی جی ایم او آپس میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان اتوار کو نیویارک کے ایک ہوٹل میں ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کو مثبت اور مفید قراردیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کہا کہ مستقبل میں مزاکرات کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دونوں وزرائے اعظم نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سے کہا ہے کہ وہ کنٹرول لائن پر فائر بندی پر عملدرآمد کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے ملاقات کریں۔ بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن دونوں وزرائےاعظم کی ملاقات کے بعد کہا کہ اجلاس بامعنی اور مثبت ماحول میں ہوا۔ نواز شریف نے کہا تھا ہم بھارت کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کےلیے تیار ہیں تاکہ بامعنی مذاکرات کیے جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ ’نئی ابتدا‘ کے لیے تیار ہیں اور سنہ 1999 کے لاہور معاہدے کو بنیاد بناتے ہوئے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔