مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دونوں ممالک کی عوام اور افواج کی مرضی کے بغیرمنموہن سنگھ اور نواز شریف کی ملاقات
نیویارک میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ امن بات چیت میں پیش رفت کے لیے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حملوں کو روکنا ضروری ہے۔ بھارتی وفد میں شامل قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات میں یہ طے پایا ہے کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے ڈی جی ایم او آپس میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان اتوار کو نیویارک کے ایک ہوٹل میں ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کو مثبت اور مفید قراردیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کہا کہ مستقبل میں مزاکرات کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دونوں وزرائے اعظم نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سے کہا ہے کہ وہ کنٹرول لائن پر فائر بندی پر عملدرآمد کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے ملاقات کریں۔ بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن دونوں وزرائےاعظم کی ملاقات کے بعد کہا کہ اجلاس بامعنی اور مثبت ماحول میں ہوا۔ نواز شریف نے کہا تھا ہم بھارت کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کےلیے تیار ہیں تاکہ بامعنی مذاکرات کیے جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ ’نئی ابتدا‘ کے لیے تیار ہیں اور سنہ 1999 کے لاہور معاہدے کو بنیاد بناتے ہوئے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔