مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
مسیحی عبادت گاہ کے بعد پشاور کےمعروف قصہ خوانی بازار میں بم دھماکہ، 42 ہلاک
پشاور...خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں اس وقت قیامت صغریٰ برپا ہو گئی جب ایک ریموٹ کنٹرول دھماکے سے اب تک 40 افراد جاں بحق اورسو سے زائدزخمی ہوگئے تھے۔ دھماکہ اتوار کی صبح گیارہ بجے قصہ خوانی بازار میں پولیس تھانے کے قریب ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی تھانے سے کوئی دس گز دور مسجد اور مسافر خانے کے ساتھ پارک کی گئی۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں دو سو کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد کے علاوہ بڑی مقدار میں کیلیں اور چھرے رکھے گئے تھے۔ پشاور میں ایک ہفتہ میں تین بڑے دھماکوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے وہ 18 افراد بھی لقمہ اجل بن گئے جو شادی کی شاپنگ کے لئے قصہ خوانی بازار آئے تھے۔ دھماکے کے بعد خاندان کے بچ جانے والے افراد بے بسی، دکھ اور رنج و الم کی تصویر بنے آہ و بکاہ کرتے رہے۔ اے آئی جی بم ڈسپوزل سکواڈ شفقت ملک نے بتایا کہ ابتدائی جائزہ کے مطابق 200 کلو گرام سے زائد بارودی مواد اس دھماکا میں استعمال کیا گیا اور یہ جی ایل آئی نمبر کی ایک وائٹ کلر کی گاڑی میں رکھا گیا تھا۔ اس گاڑی کو مسافر خانہ کے پیچھے کھڑا کیا گیا تھا اور ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔ اس طرح اس پوری گاڑی کو بم کی شکل دے دی گئی تھی جس سے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ یہ دھماکہ پاکستان چرچ سے کچھ فاصلے پر ہوا جہاں پر مسیحی برادری عبادت کیلئے موجود تھی لیکن جونہی دھماکہ ہوا مسیحی برادری کے لوگ چیخیں مارتے ہوئے باہر آگئے۔