مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسیحی عبادت گاہ کے بعد پشاور کےمعروف قصہ خوانی بازار میں بم دھماکہ، 42 ہلاک
پشاور...خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں اس وقت قیامت صغریٰ برپا ہو گئی جب ایک ریموٹ کنٹرول دھماکے سے اب تک 40 افراد جاں بحق اورسو سے زائدزخمی ہوگئے تھے۔ دھماکہ اتوار کی صبح گیارہ بجے قصہ خوانی بازار میں پولیس تھانے کے قریب ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی تھانے سے کوئی دس گز دور مسجد اور مسافر خانے کے ساتھ پارک کی گئی۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں دو سو کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد کے علاوہ بڑی مقدار میں کیلیں اور چھرے رکھے گئے تھے۔ پشاور میں ایک ہفتہ میں تین بڑے دھماکوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے وہ 18 افراد بھی لقمہ اجل بن گئے جو شادی کی شاپنگ کے لئے قصہ خوانی بازار آئے تھے۔ دھماکے کے بعد خاندان کے بچ جانے والے افراد بے بسی، دکھ اور رنج و الم کی تصویر بنے آہ و بکاہ کرتے رہے۔ اے آئی جی بم ڈسپوزل سکواڈ شفقت ملک نے بتایا کہ ابتدائی جائزہ کے مطابق 200 کلو گرام سے زائد بارودی مواد اس دھماکا میں استعمال کیا گیا اور یہ جی ایل آئی نمبر کی ایک وائٹ کلر کی گاڑی میں رکھا گیا تھا۔ اس گاڑی کو مسافر خانہ کے پیچھے کھڑا کیا گیا تھا اور ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔ اس طرح اس پوری گاڑی کو بم کی شکل دے دی گئی تھی جس سے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ یہ دھماکہ پاکستان چرچ سے کچھ فاصلے پر ہوا جہاں پر مسیحی برادری عبادت کیلئے موجود تھی لیکن جونہی دھماکہ ہوا مسیحی برادری کے لوگ چیخیں مارتے ہوئے باہر آگئے۔