مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں کپتان محمد منیر میموریل والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد،مانچسٹر کی جیت
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسیحی عبادت گاہ کے بعد پشاور کےمعروف قصہ خوانی بازار میں بم دھماکہ، 42 ہلاک
پشاور...خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں اس وقت قیامت صغریٰ برپا ہو گئی جب ایک ریموٹ کنٹرول دھماکے سے اب تک 40 افراد جاں بحق اورسو سے زائدزخمی ہوگئے تھے۔ دھماکہ اتوار کی صبح گیارہ بجے قصہ خوانی بازار میں پولیس تھانے کے قریب ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی تھانے سے کوئی دس گز دور مسجد اور مسافر خانے کے ساتھ پارک کی گئی۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں دو سو کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد کے علاوہ بڑی مقدار میں کیلیں اور چھرے رکھے گئے تھے۔ پشاور میں ایک ہفتہ میں تین بڑے دھماکوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے وہ 18 افراد بھی لقمہ اجل بن گئے جو شادی کی شاپنگ کے لئے قصہ خوانی بازار آئے تھے۔ دھماکے کے بعد خاندان کے بچ جانے والے افراد بے بسی، دکھ اور رنج و الم کی تصویر بنے آہ و بکاہ کرتے رہے۔ اے آئی جی بم ڈسپوزل سکواڈ شفقت ملک نے بتایا کہ ابتدائی جائزہ کے مطابق 200 کلو گرام سے زائد بارودی مواد اس دھماکا میں استعمال کیا گیا اور یہ جی ایل آئی نمبر کی ایک وائٹ کلر کی گاڑی میں رکھا گیا تھا۔ اس گاڑی کو مسافر خانہ کے پیچھے کھڑا کیا گیا تھا اور ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔ اس طرح اس پوری گاڑی کو بم کی شکل دے دی گئی تھی جس سے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ یہ دھماکہ پاکستان چرچ سے کچھ فاصلے پر ہوا جہاں پر مسیحی برادری عبادت کیلئے موجود تھی لیکن جونہی دھماکہ ہوا مسیحی برادری کے لوگ چیخیں مارتے ہوئے باہر آگئے۔