مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
منصوبہ بندی کے باوجود امریکہ میں لاکھوں سرکاری ملازمتیں خطرے کا شکار !!
نیو یارک ... امریکی ایوان نمائندگان نے جس میں ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر فنڈ روکنے کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد ملک بھر میں سرکاری سروسز کے بند ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حزب اختلاف اور حکومت میں اختلافات ختم نہ ہونے کی صورت میں اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں لاکھوں سرکاری ملازم تنخواہوں سے محروم ہو جائیں گے جسکے بعد لامحدود ہڑتالوں کا خطرہ درپیش ہے۔ اگر سرکاری سروسز یکم اکتوبر کو بند ہوتی ہیں تو اکیس لاکھ سرکاری ملازمین میں سے ایک تہائی کو کام روکنا ہوگا اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اس مسئلے کے حل ہونے کی صورت میں انہیں اس عرصے کی تنخواہیں ملیں گی۔ امریکی مالی سال ٣٠ ستمبر کوپیر کی رات ختم ہو جائےگا اور اس سے قبل حکومت کے لیے اخراجات کے بل سے متعلق ایک نئی پالیسی پر اتفاق رائے کرنا ضروری ہے۔ اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی تو غیر اہم سرکاری سروسز کو بند کرنا پڑے گا جس سے کئی افراد کی نوکریوں کو خطرہ ہوگا یا پھر وہ بغیر تنخواہ پر کام پر مجبور ہوں گے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے کا کہنا تھا کہ اگر ریپبلیکن پارٹی کا کوئی رکن اس بل کے حق میں ووٹ دے گا تو وہ سروسز کے بند ہونے کے لیے ووٹ دے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر اس ریپبلیکن بل کو ویٹو کر دیں گے۔ اہم ایوان میں ریپبلیکن پارٹی کے اراکین نے ویٹو کیے جانے کے تمام اندیشوں کو رد کرتے ہوئے بل میں ترمیم کی اور اسے 192 کے مقابلے میں 231 سے منظور کروا لیا۔ سینیٹ میں صدر اوباما کی ڈیموکریٹ جماعت کی اکثریت ہے جبکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلیکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔