مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لندن میں حلال فوڈ میلہ، کھانے پکانے کے مقابلوں میں غیر مسلموں کی بھرپوردلچسپی
لندن ... برطانوی دارالحکومت کی سب سے بڑی نمائش گاہ لندن ایکسل میں حلال فوڈز کی نمایش ہوئی دو روز تک جاری رہنے والے دنیا کے سب سے بڑے حلال خوراک میلے میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا..اس میلے میں چاکلیٹ کی مدد سے تیار کردہ میٹھا’چوکلیٹئر‘ بھی دستیاب تھے جسکے ے بانی انیش پوپٹ کا دعویٰ ہے کہ پانی کی مدد سے تیار کردہ ’چوکلیٹئر‘ کے منفرد لذیذ ذائقے سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ میلے میں شرکت کے لیے ضروری نہیں تھا کہ آپ صرف حلال کھانا ہی کھاتے ہوں اسلیے خوراک کے شوقین افراد کی بڑی تعداد اس میلے میں طرح طرح کے کھانوں سے لطف اندوز ہوی۔ اس میلے کا انعقاد لندن میں اس لیے کیا گیا کیونکہ برطانیہ میں مقیم مسلم آبادی کا ایک تہائی لندن میں رہائش پذیر ہے اور یہاں حلال خوراک کا کاروبار دو لاکھ پاؤنڈ تک ہے اور مجموعی طور پر برطانیہ میں سالانہ سات لاکھ پاؤنڈ مالیت کی حلال خوراک فروخت کی جاتی ہے۔ اس میلے کے ایونٹ ڈائریکٹر نعمان خواجہ سابق ڈینٹسٹ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ وہ ڈینٹسٹ کا پیشہ چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کریں لیکن اس میلے کا خیال ان کے ساتھی ڈاکٹر عمران کوثر کو آیا۔ میلے میں براہ راست کھانا پکانے کے فن کا مظاہرہ ہوا اور اس میں شریک مشہور باورچی جین کرسٹوفر نویلی بھی شامل تھے..میلےکا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کو بتایا جا سکے کہ کسی بھی اعلیٰ ریستوران سے حلال کھانا منگوا سکتے ہیں اور اس میں شرکت کرنے والوں کو آگاہ کیا گیا کہ اب بکنگھم پیلس، ڈاؤننگ سٹریٹ اور میئر ٹاؤن ہالز میں بھی مہمانوں کو حلال کھانا پیش کیا جاتا ہے لیکن منتظین کے مطابق ان کا اصل ہدف متوسط طبقے کے مسلمان تھے جن کے برطانیہ بھر میں ریستوران میں جانے کی تبدیلی آ رہی ہے۔