مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان ہائی کمیشن لندن میں یوم دفاع تقریب، کمیونٹی شخصیات اور سفارتکاروں کی شرکت
لندن :پاکستان دنیا میں امن و آتشی کا خواہاں ہے جس کے قیام کی کوشسوں اور قربانیوں کے حوالے سے اسے صف اول کے ممالک میں شامل کیا جاتا ہے، لیکن ہماری امن کی ان کوششوں اور محبت کے پیغام کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے کیونکہ وطن عزیز پاکستان کا دفاع ہماری اولین ترجیح ہے. ان خیالات کا اظہار مقررین نے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں یوم دفاع کی تقریب میں کیا جس میں کمیونٹی کی اہم شخصیات کے علاوہ دیگر ممالک کے عسکری سٹاف اور سفارتکاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا، تقریب سے قائمقام ہائی کمشنر ڈاکٹر اسرار حسین، نیول ایڈوائزر کموڈور رب نواز اور ڈیفنس ایڈوائزر کرنل ندیم نے خطاب کیا. انکا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، ہماری بری ، بحری اور فضائی افواج پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے لیس اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں، پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ اور پرامن تعلقات کا خواہاں ہے تاہم امن کی اس خواہش کو کمزوری تصور نہ کیا جائے، ہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت سے رکھتے ہیں۔ یہ دن ہماری قومی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے ،51 سال قبل ہمارے جوانوں و افسروں، سیلرز اور ہوا بازوں نے جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کے شانہ بشانہ دشمن کی جارحیت کو ناکام بنا کر وطن عزیز کی مقدس سرحدوں کا دفاع کیا دنیا کے تیزی سے بدلتے حالات، اندرونی و بیرونی سازشیں اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی جیسے چیلنجز قوم سے اپنی صفوں میں اتحاد کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ اقتصادی ترقی بھی ملکی دفاع اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے، بڑے بڑے منصوبہ جات کی تکمیل سے معاشی استحکام حاصل ہو گا جس سے دفاع پاکستان مضبوط ہو گا، وسطی ایشیائی ریاستوں اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تجارتی روابط میں اضافہ کے اقدامات سے پاکستان خطہ میں اقتصادی قوت کے طور پر ابھرے گا۔ اس دن کو پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن اور ولو لہ انگیز دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اس روز ہماری بہادر مسلح افواج نے قوم کے شانہ بشانہ جارح دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا کر یہ پیغام دیا تھا کہ وہ اپنی آزادی کی حفاظت کرنا جانتی ہیں پاکستانی قوم5 196کی جنگ میں پاک فوج کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں پر ان کی شکر گزار ہے جنہوں نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور مادرِ وطن کے وقار کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔اس دن کو منانے کا مقصدمسلح افواج کے ان ہیروز کو خراج تحسین اور نذرانہ عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنی لازوال قربانیوں کے ذریعے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔