مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سی پیک منصوبے سے مجموعی خوشحالی ، بلوچستان سے محرومیوں کا خاتمہ بھی ہوگا: خواجہ سعد رفیق
لندن: مملکت خداداد پاکستان نے گذشتہ تین سال میں ریکارڈ ترقی کی ہے، ملک آج جس نہج پر ہے اس میں عقل اور ہوش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے کیونکہ دشمن کے پیٹ میں مروڑاٹھ رہے ہیں، ایک طرف ضرب عضب کی وجہ سے اندرونی دشمنوں کا صفایا ہوگیا تو دوسری طرف سی پیک منصوبہ ملک کو ترقی کی اس منزل کی طرف لیکر جارہا ہے جس کا تصور تیسری دنیا کا کوئی ملک نہیں کرسکتا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ سوا تین سال قبل جب ہم برسراقتدار آئے تو کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں آئے روز لاشیں گرتی تھیں، عوام خود کو غیر محفوظ تصور کرتی تھی لیکن موجودہ حکومت کی موثر پالیسیوں کی بدولت ناصرف دہشت گردی کا خاتمہ ہوا بلکہ ملک میں ترقی کی نئی راہیں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہاترقی اور امن استحکام کی بدولت اب بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ نظر آرہے ہیں جبکہ سی پیک منصوبے کی تکمیل کا مطلب جہاں مجموعی خوشحالی ہے وہیں بلوچستان سے محرومیوں کا خاتمہ بھی ہوگا، آج پنجاب سے کراچی کا سفر اٹھارہ گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے تو پھر صرف دس گھنٹوں کی مسافت رہ جائے گی۔ اپنے محکمہ ریلوے کے بارے بات چیت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ میں نے جب محکمہ سنبھالا تو یہ اٹھارہ ارب کے خسارے میں تھا جبکہ آج اسکا ریونیو چھتیس ارب تک پہنچ چکا، ہم نے جہاں اعلیٰ درجے کی سہولتیں متعارف کرائیں وہیں کرائے بھی کم کئے، آج ریلوے اپنے اسی ہزار ملازمین کی تنخواہیں اور سوا لاکھ پنشنرز کی پنشن باقاعدگی سے دے رہا ہے، مزدور یونین والے کام کرتے ہیں، قلیوں کے صدیوں پرانے یونیفارم کو بدل کر انہیں باعزت ملازم کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ڈاکٹر قادری کا گٹھ جوڑ امید ہے کہ اس دفعہ کوئی خرابی نہیں کرے گا اور وہ گڈ بوئز کی طرح اپنا احتجاج ریکارڈ کرئیں گے۔ الطاف حسین کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ حکومت بڑی سمجھ بوجھ کیساتھ اس معاملے سے نبٹ رہی ہے۔ اوصاف کے اس سوال کہ وزیر اعظم کی طرف سے اسلام آباد تا مظفر آباد ٹرین منصوبہ کہاں تک پہنچا؟ خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ اس پر بنیادی تخمینہ لگایا گیا جس کے مطابق اس پر پاکستان ریلوے کی توقع سے زیادہ خرچ آرہا ہے اسلیئے ہم اسکے لئے کسی سرمایہ کار کی تلاش میں ہے جو حوکمت کیساتھ مل کر اس منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچا سکے، انہوں نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ کشمیر ریلویز کے زیراہتمام مکمل کیا جائے گا، اس محکمے کیلئے بھی کام جاری ہے۔