مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈرامے پاکستان کی بدنامی کے لئے تھے
اتوار کی صبح بھارتی وزیر اعظم سے ناشتے کی میز پر ملاقات کے موقع پر میرا ایک ہی پیغام ہے کہ میاں جی !اپنے آپ کو ایک ایٹمی طاقت کے سربراہ سمجھیں۔یہ ملاقات ہماری نہیں، بھارت کی ضرورت ہے۔اس نے ہمیں ہر طرح سے آزما کے دیکھ لیا۔ من موہن جی کئی الزامات دہرائیں گے، ممبئی کا قصہ بھی چھیڑیں گے اور جموں میں حالیہ فدائی حملے کا رونا بھی روئیں گے۔حافظ محمد سعید کا سر مانگیں گے اور آئی ایس آئی کے جبر کی دہائی دیں گے، آپ ان سے مطالبہ کریں کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس کو نذر آتش کرنے والے کرنل پروہت اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کو پاکستان کے حوالے کر دیں تاکہ ان پر مقدمات چلائے جا سکیں اور جو اعترافات اب تک وہ خود کر چکے ہیں ، ان کی روشنی میں انہیں قرار واقعی سزادی جائے۔ جموں فدائی حملے کے ڈرامے کی ٹائمنگ ملاحظہ فرمایئے کہ ادھر من موہن سنگھ کا جہازائیر انڈیا ون عازم پرواز ہوا، ادھر تین فدائی ،کشمیر کی ایک چھاونی میں گھس گئے۔اگر اس میں کشمیریوں کا ذرا بھی کردار ہوتا تو فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر من موہن یہ نہ کہتے کہ کچھ بھی ہو جائے، وہ امن مشن کو آگے بڑھائیں گے۔کیا یہ سوچا جا سکتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم ذرا بھی غیرت اور حمیت کے مالک نہیں کہ ان کے تین فوجیوں سمیت بارہ افراد کو ہلاک کر دیا جائے اور وہ پھر بھی امن کی آشا سے سرشار دکھائی دیں۔ چند ہفتے پیچھے چلتے ہیں ،کشمیر کی کنٹرول لائن پر ایک مبینہ جھڑپ میں پانچ بھارتی فوجی قتل ہوئے ، ان کی موت پر بھارت میں کہرام مچ گیا، اپوزیشن تو خیر بی جے پی کے انتہا پسندہاتھوں میں ہے، خود کانگرس کے نوجوانوںنے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کا گھیراوکر لیا۔ بھارت کی پارلیمنٹ میں پاکستان مردہ باد کے نعرے لگے۔مگر یہ سب کچھ من موہن جی کیوں بھول گئے، انہوں نے اپنے فوجیوں کے خون سے غداری کیوں کی، یہ سوال ہے تو ٹیڑھا مگر اس کا جواب بڑا سادہ ہے کہ جب من موہن جی کو پتہ ہو کہ یہ سب بھارت کا اپنا رچایا ہوا ڈرامہ تھا تو وہ جعلی غیرت اور حمیت کے چکر میں کیسے پڑتے۔یہ ڈرامے محض پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے تھے۔اور پاکستان کے اندر بھارتی شردھالووں میں پیسہ بانٹ کر پاک فوج کو بد نام کرنے کے لئے تھے۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ ایک بھارتی فوجی کا سر بھی کاٹا گیا۔اس پر بھی بھارت میںبہت کہرام مچا تھا مگر من موہن جی اسے بھی بھول گئے، کیسے، کیوں۔اس لئے کہ سب ناٹک تھا بھارت کا اپنا رچایا ہوا۔ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے سو سو جتن کئے۔ کبھی نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر حملہ، کبھی سری نگر کی اسمبلی پر حملہ ، کبھی بھارتی طیارے کاا غوا،اور غصے میں، بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح پاکستان پرجارحانہ یلغار کی خواہش پوری کرنے کی بار بار کوشش ، اور بار بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔انیس سو ستاسی کے اوائل میں اس کی فوجوں نے جنگی مشقوں کی آڑ میں پاکستان کی سرحد کا رخ کیا، جنرل ضیاالحق نے بھارت کے ایک کرکٹ میچ میں راجیو گاندھی کے کان میں اتناکہاکہ مہاراج، سوچ سمجھ کر گولی چلائیں ، ہم ایٹم بم تیار کر چکے ہیں ۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ بھارت ساری چوکڑی بھول گیا اور اس کی فوجوںنے چھاونیوں کی راہ لی، ممبئی سانحے کے بعد بھارت نے سوچا کہ اسے بھی امریکہ کی طرح سرجیکل اسٹرائیک کا حق حاصل ہے، اس سے قبل کہ اس کے بمبار طیارے کوئی کاروائی کرپاتے، پاک فضائیہ کے سرفروشوں نے چوبیس گھنٹے فضائی نگرانی شروع کر دی ۔ اور ظاہر ہے یہ خالی ہاتھ نہیں تھے۔بھارت کو بھی علم تھا کہ ان جہازوں میں کونساا سلحہ ہے۔ اوراس نے ایک بار پھر امن کی ا ٓشا کا جھنڈا بلند کردیا۔ بھارت اپنے آپ کو علاقے کی منی سپر پاور بنانا چاہتا ہے، اس کی خواہش کے اس کے ارد گرد سارے ملک بھوٹان کی طرح اس کی تابعداری کریں۔مگر اس کے ان مذموم ارادوں کی تکمیل کی راہ میں ایک ملک جس کا نام پاکستان ہے، مملکت خداداد، حائل ہے۔ امریکہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور ہے، اس نے نائن الیون کی آڑ میں افغانستان کو تاراج کیا ، یہاں اپنی فوجیں اتار دیں، اس کے ساتھ پچاس دیگر ممالک کا لشکر بھی تھا، کیا ان کی منزل واقعی افغانستان کے بنجر، بے آب وگیاہ پہاڑ اور اس کی پتھریلی وادیاں تھیں۔ہر گز نہیں ، اس نے جنگ کا تھیٹر افغانستان کے بجائے پاکستان کو بنایا، اس پر ڈرون حملے ہوئے، اس کے شہر شہر خونریزی کی گئی، جب یہ سطور لکھ رہوں ہوں تو پشاور کے نزدیک پھر دہشت گردی کی واردات ہو گئی ہے، نواز شریف امریکی دورے پر روانہ ہوئے تو ایک مسیحی عبادت گاہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، نواز شریف ذرا نہیں گبھرائے، اس لئے کہ انہیں علم تھا کہ ان کے پیچھے کون ہے اورپاکستان کو جھکانا کس کا مشن ہے۔ نواز شریف تن کر امریکہ اترے، انہوں نے امریکی صدر سے ہاتھ ملانے کے لئے کسی بے تابی کا مظاہرہ نہیں کیا ، وہ اوبامہ کے کھانے میں نہیں گئے، ایرانی صدر بھی وہاں نہیں گئے، ان کے پاس تو یہ بہانہ تھا کہ اس کھانے میں شراب بھی پیش کی جارہی ہے مگر نواز شریف کو جو اعتراضات ہو سکتے تھے ، وہ زبان پر نہیں آ سکتے تھے، ان کا تو صرف ایک مخصوص رویئے سے ہی جواب دیا جا سکتا تھا، نواز شریف نے ایسا ہی کیا۔ اب انہیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری دورے کی با قاعدہ دعوت دے چکے ہیں۔نواز شریف اس کے لئے کوئی تڑپ نہیں رہے تھے ۔ یہ دورہ اکتوبر میں ہو گا، باقی ماندہ مدت میں دونوں ملک ڈاک بہت تیزی سے بھی نکالیں تو واشنگٹن میں پاکستانی سفیرکی تقرری عمل میں نہیں آ سکتی، نوا ز شریف نے ابھی وزیر خارجہ بھی نہیں لگایا اور اگر وہ کچھ عرصہ مزید حالات کو اسی طرح چلنے دیں تو پاکستان کو تر نوالہ یا ایک غلام محض سمجھنے والوں کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ نواز شریف کے سامنے اکڑ کر چلنے کی کئی اور مثالیں بھی ہیں۔ شام کے بشا رالاسد کے خلاف اڑھائی برس سے شورش جاری ہے، امریکہ نے اسے براہ راست جارحیت کی دھمکی بھی دی۔مگر امریکہ کے دانے مک گئے ہیں ، سلامتی کونسل شام کے خلاف ایک قرار داد منظور کر کے امریکہ کی عزت بچانے کو کوشش کر رہی ہے ۔ اس قرارداد کی خلاف ورزی پر شام کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا سکتی۔ اسی امریکہ کو اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی لوہے کے چنے چبوا دیئے۔ ایران شروع سے کہہ رہا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنانا چاہتا، کوئی اس موقف کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا مگر اب نئے ایرانی صدر حسن روحانی کے اسی اعلان پر یقین کرنا امریکہ کی مجبوری بن گیا ہے۔ میاں جی ! تھوڑے لکھے کو بوہتا جانیں اور دب کے رکھیں ، پاکستان اللہ کی نعمت ہے، اسی نے ایٹمی قوت سے نوازا ہے۔اب نہ کسی سے ڈریں، نہ کسی کے سامنے جھکیں ،نہ کسی سے ڈکٹیشن لیں، یہی تھا نا آپ کا نعرہ، اس پر عمل کا وقت آگیا۔ (بشکریہ: اسد اللہ غالب)