مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
رمضان المبارک میں اسلامک ریلیف کا بھوک کے خلاف اعلان جنگ
برمنگھم۔ اسلامک ریلیف یو کے نے اس سال رمضان المبارک میں بھوک کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان کمیوٹی نے کہا گیا ہے کہ وہ اسلامک ریلیف کی اس کوشش میں اس کی مدد کرے ۔ اسلامک ریلیف کے عادل حسینی اور مارٹن کوٹنگھم نے کہا ہے کہ اسلامک ریلیف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے آگے دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور رمضان المبارک میں ’’وارآن ہنگر‘‘ کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان رہنمائوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کی وجہ سے ان دنوں بھوک افلاس کا جو سلسلہ شروع ہوا اس کے خلاف کام کیا جائے گا اور ان ممالک میں بھوک کے خلاف جدوجہد شروع کی جائیگی ۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ اسلام نے بھوک و افلاس کے خلاف جنگ کی تلقین کی ہے اور لوگوں کی مدد کرنے پر زور دیا ہے ۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کو امداد فراہم کی جائے گی جن کو اس کی اشد ضرورت ہے ۔ ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اسلامک ریلیف نے انسانوں کے خلاف نہیں بلکہ بھوک کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے ۔ ساری کمیونٹیز کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اسلامک ریلیف کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی مسلمان جہاں رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں وہاں وہ کئی ملین پونڈ کی زکوٰۃ صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں ، یہی موقع ہے کہ جب وہ غریبوں کو پیٹ بھر کر رزق فراہم کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلامک ریلیف چاہتا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران سب لوگوں کو کافی مقدار میں فوڈ نصیب ہو ، کیوں کہ مسلمان اپنے بارے میں نہیں بلکہ دوسروں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں ۔