مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
رمضان المبارک میں اسلامک ریلیف کا بھوک کے خلاف اعلان جنگ
برمنگھم۔ اسلامک ریلیف یو کے نے اس سال رمضان المبارک میں بھوک کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان کمیوٹی نے کہا گیا ہے کہ وہ اسلامک ریلیف کی اس کوشش میں اس کی مدد کرے ۔ اسلامک ریلیف کے عادل حسینی اور مارٹن کوٹنگھم نے کہا ہے کہ اسلامک ریلیف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے آگے دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور رمضان المبارک میں ’’وارآن ہنگر‘‘ کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان رہنمائوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کی وجہ سے ان دنوں بھوک افلاس کا جو سلسلہ شروع ہوا اس کے خلاف کام کیا جائے گا اور ان ممالک میں بھوک کے خلاف جدوجہد شروع کی جائیگی ۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ اسلام نے بھوک و افلاس کے خلاف جنگ کی تلقین کی ہے اور لوگوں کی مدد کرنے پر زور دیا ہے ۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کو امداد فراہم کی جائے گی جن کو اس کی اشد ضرورت ہے ۔ ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اسلامک ریلیف نے انسانوں کے خلاف نہیں بلکہ بھوک کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے ۔ ساری کمیونٹیز کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اسلامک ریلیف کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی مسلمان جہاں رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں وہاں وہ کئی ملین پونڈ کی زکوٰۃ صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں ، یہی موقع ہے کہ جب وہ غریبوں کو پیٹ بھر کر رزق فراہم کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلامک ریلیف چاہتا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران سب لوگوں کو کافی مقدار میں فوڈ نصیب ہو ، کیوں کہ مسلمان اپنے بارے میں نہیں بلکہ دوسروں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں ۔