مقبول خبریں
ایسٹرن پویلین ہال اولڈہم میں آزادکشمیر میں قائم اسلام ویلفیئر ٹرسٹ کے سالانہ چیرٹی ڈنر کا انعقاد
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
رمضان المبارک میں اسلامک ریلیف کا بھوک کے خلاف اعلان جنگ
برمنگھم۔ اسلامک ریلیف یو کے نے اس سال رمضان المبارک میں بھوک کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان کمیوٹی نے کہا گیا ہے کہ وہ اسلامک ریلیف کی اس کوشش میں اس کی مدد کرے ۔ اسلامک ریلیف کے عادل حسینی اور مارٹن کوٹنگھم نے کہا ہے کہ اسلامک ریلیف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے آگے دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور رمضان المبارک میں ’’وارآن ہنگر‘‘ کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان رہنمائوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کی وجہ سے ان دنوں بھوک افلاس کا جو سلسلہ شروع ہوا اس کے خلاف کام کیا جائے گا اور ان ممالک میں بھوک کے خلاف جدوجہد شروع کی جائیگی ۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ اسلام نے بھوک و افلاس کے خلاف جنگ کی تلقین کی ہے اور لوگوں کی مدد کرنے پر زور دیا ہے ۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کو امداد فراہم کی جائے گی جن کو اس کی اشد ضرورت ہے ۔ ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اسلامک ریلیف نے انسانوں کے خلاف نہیں بلکہ بھوک کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے ۔ ساری کمیونٹیز کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اسلامک ریلیف کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی مسلمان جہاں رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں وہاں وہ کئی ملین پونڈ کی زکوٰۃ صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں ، یہی موقع ہے کہ جب وہ غریبوں کو پیٹ بھر کر رزق فراہم کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلامک ریلیف چاہتا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران سب لوگوں کو کافی مقدار میں فوڈ نصیب ہو ، کیوں کہ مسلمان اپنے بارے میں نہیں بلکہ دوسروں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں ۔