مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
قربانی سے جمع ہونے والے فنڈز کمزور افراد کی مدد کیلئے استعمال کئے جا ئینگے: اسلامک ریلیف
لندن:برطانیہ کے مایہ ناز چیریٹی ادارے اسلامک ریلیف نے اعلان کیا ہے کہ 1984 میں تنظیم کے قیام کے بعد پہلی بار اس کی تاریخ میں قربانی کے دوران عطیات سے جمع ہونے والے فنڈز پورے برطانیہ میں کمزور افراد کی مدد کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔ تنظیم کے برطانیہ کے ڈائریکٹر عمران مدن نے سنٹرل لندن میں اس کے ہیڈکوارٹرز میں ایک تقریب اجراء سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اسلامک ریلیف، فیئر شیئر کے ساتھ مل کر کام کرے گی جو کارخانہ داروں اور سپرمارکیٹوں سے جمع ہونے والی اضافی اشیائے خوردونوش برطانیہ کے تقریباً 2,400 چیریٹی اداروں اور کمیونٹی میں تقسیم کرتی ہے جن میں بے گھر افراد کے ٹھکانے، عمر رسیدہ افراد کے لنچ کلب اور خواتین کے ریفیوج شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوشت کے پیکج لندن، مانچسٹر اور برمنگھم میں فیئرشیئر کے ریجنل سنٹرز سے مسلموں اور غیرمسلموں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ فیئرشیئر سے اشیاء حاصل کرنے والے چیریٹی اداروں میں موجود افراد کو پکے ہوئے کھانے میں گوشت دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے رضاکار اس سال دو دیگر پارٹنرز الصفا انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل زکوٰۃ فائونڈیشن کے ساتھ بھی کام کریں گے اور بکرے کے گوشت کے پیکج براہ راست لوگوں کے گھروں کی دہلیز پر پہنچائیں گے۔ عمران مدن نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق برطانیہ میں 8.4 ملین افراد کو کھانا حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم لوگ آج بھی دنیا کے انتہائی غربت زدہ ملکوں میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس المیہ کی طرف بھی دیکھنا چاہئے جو سال کے اس مقدس وقت پر ہمارے اپنے گھر میں رونما ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر مسلمان قربانی کا گوشت عید کے تینوں دن غریب لوگوں کو دیتے ہیں جسے قربانی کا نام دیا جاتا ہے۔ اسلامک ریلیف کی اس سال کی مہم کو ’’گِو قربانی، گِو لَو‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تقسیم کا کام عید کے پہلے دن سے شروع ہو گا جو 11 یا 12 ستمبر کو متوقع ہے۔ عمران مدن نے کہا کہ فیئرشیئر کے ساتھ کام کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ صرف وہی کھانا ہی نہیں دیتے جو بصورت دیگر ضائع ہو جاتا بلکہ یہ صف اول کے ان اداروں کے ذریعے کھانا فراہم کرتے ہیں جو ذہنی صحت اور بے گھر ہونے جیسے مسائل کے دوررس حل تلاش کرتے ہیں اور کھانا اس کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ اسلامک ریلیف کی سوچ سے بھی ہم آہنگ ہے جو مسائل کے طویل مدتی حل نکالنے کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال اندرون و بیرون ملک پہلے سے کہیں زیادہ خاندانوں کو گوشت پہنچایا جائے گا۔ فیئرشیئر کے کمرشل مینجر روون ویسٹ ہینزیل نے کہا کہ ہمیں عیدالاضحی کے موقع پر اسلامک ریلیف کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ایسے مسلم و غیرمسلم چیریٹی اداروں اور کمیونٹی گروپوں میں کھانا تقسیم کرنے پر خوشی ہے جو تمام طبقات زندگی سے تعلق رکھنے والے ضرورت مند افراد کی مدد کرتے ہیں۔ ان تنظیموں کا مقصد غذائیت بھرے کھانوں کے علاوہ زندگیاں بدلنے والی خدمات فراہم کرنا ہے اور ہمیں پتہ چلا ہے کہ اعلیٰ معیار کا گوشت خاصا مہنگا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس مدد پر اسلامک ریلیف کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں اس پارٹنرشپ کو آگے بڑھانے کی امید ظاہر کی۔ اسلامک ریلیف کی میڈیا ریلیشن آفیسر حسینہ ممتاز نے ایک سوال پر بتایا کہ تنظیم نے 2015 میں قربانی کے تقریباً 650,000 پیک تقسیم کئے جن سے 31 ملکوں کے 3.3 افراد ملین مستفید ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلامک ریلیف ایک بین الاقوامی امدادی و ترقیاتی ادارہ ہے جس کا مقصد تیس سے زیادہ ملکوں بالخصوص افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں دنیا کے غریب ترین افراد کی مشکلات کم کرنا ہے۔ آفات اور ہنگامی حالات میں جوابی اقدامات کرنے کے علاوہ اسلامک ریلیف مقامی کمیونٹیز کے ساتھ صنف، مذہب یا نسل سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہوئے دیرپا معاشی و سماجی ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔ اسلامک ریلیف برطانیہ کی ان 13 چیریٹی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے جو ڈزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی (ڈی ای سی) میں شامل ہیں۔