مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
صاحبزادہ حامدسعیدکاظمی کوسزا کیخلاف علما وفد کی پاکستان ہائی کمشنر سےملاقات تحفظات کا اظہار
لندن ... برطانیہ کی متعدد مسلم مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں اور دیگر شخصیات نے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس سے ملا قا ت کر کے ا ن کے نام اپنے ایک خط میں حج کرپشن کیس میں عدالتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ مزید عدالتی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ خط میں سابق وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی کو سزا دینے کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے اور اسے ملکی تاریخ میں انصاف کا بدترین قتل قرار دیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صاحبزادہ حامد سعید کاظمی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جسے ملک میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے والد علامہ سید احمد سعید کاظمی ایک مایہ ناز عالم تھے۔ قرآن پاک اور حدیث کی تفسیر پر انہیں اتھارٹی سمجھا جاتا تھا اور کئی سال تک وہ اپنے شاگردوں کو قرآنی آیات اور فقہ کے معانی پر رہنمائی دیتے رہے۔ ان کے بے پناہ علم کی بناء پر انہیں غزالی زماں اور رضی دوراں کا خطاب دیا گیا۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی اسلامی طرزحیات کے نفاذ کے لئے وقف رکھی۔ تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی میں ان کی بھرپور شمولیت اسلام اور پاکستان کے ساتھ ان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل اور مرکزی زکوٰۃ و عشر کونسل کے بانی رکن تھے۔ علامہ کاظمی کا روحانی اثر جنوبی پنجاب میں خاص طور پر زیادہ ہے جہاں لاکھوں لوگ ان کے پیروکاروں میں شامل ہیں۔ صاحبزادہ حامد سعید کاظمی کے حوالے سے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ گریجویشن اور ماسٹرز کی سطح پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ریکارڈ ہولڈر ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر لیکچروں کی صورت میں انہوں نے فروغ اسلام کے لئے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں اور ماہنامہ السعید کے ایڈیٹر انچیف ہیں جو ان کے مرحوم والد نے شروع کیا تھا اور کئی سال سے یہ جریدہ اسلامی اقدار پر اعلیٰ معیار کی تحریریں شائع کر رہا ہے۔ ان کی انہی خدمات کی بناء پر انہیں پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے پر وزیر مذہبی امور بنایا گیا۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ صاحبزادہ حامد سعید کاظمی کو 2010 میں اس وقت کرپشن میں ملوث کیا گیا جب وہ وفاقی وزیر مذہبی امور تھے۔ چھ سال تک تحقیقات کی گئیں اور ان کے خلاف شواہد ڈھونڈ نکالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ نہ صرف ان کے بلکہ ان کے تمام اہل خانہ کے اکاؤنٹس کی بھی چھان بین کی گئی لیکن ان کے خلاف شواہد کا شائبہ تک نہ ملا اور اس حقیقت کی نشاندہی عدالتی فیصلے میں بھی کی گئی ہے لیکن اس سب کے باوجود انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ عدالت نے انہیں سزا سنا دی۔ انہیں کرپشن کی بناء پر نہیں بلکہ ’’مس مینجمنٹ‘‘ پر سزا دی گئی ہے جس کے کوئی شواہد نہیں ملتے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف کا مذاق ہے اور ملک کے نظام قانون پر ایک سیاہ داغ کی مانند باقی رہے گا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہم برطانیہ اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے اپیل کرتے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی موجودگی میں مقدمہ کی کھلی سماعت کی جائے۔ فیصلے سے پاکستان کے عدالتی نظام کے اعتماد کو جو نقصان پہنچا ہے اسے بحال کرنے کے لئے سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرے اور انصاف یقینی بنائے۔ خط میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں شامل ان افراد کے اکاؤنٹس کے بارے میں تحقیقات دوبارہ کھولی جائیں جنہیں سیاسی دباؤ پر بند کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی اے کے تحقیقاتی افسران اور فیصلہ دینے والے اور صاحبزادہ حامد کی ضمانت کی اپیل مسترد کرنے والے معزز جج صاحبان قرآن پاک پر حلف لے کر تصدیق کریں کہ ان کا ضمیر اس معاملے میں بالکل مطمئن ہے۔ ہا ئی کمشنر سے ملا قا ت کر کے یہ خط د ینے والوں میں مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و اوورسیز کے صدر احمد نثار بیگ قادری ، چیئرمین علامہ پیر سید زاہد حسین شاہ رضوی اور جنرل سیکرٹری مفتی حافظ فضل احمد قادری کے علاوہ جماعت اہلسنت برطانیہ کے امیر علامہ قاری خلیل احمد حقانی، نائب امیر مفتی رسول بخش سعیدی، مولانا حافظ محمد سعید مکی، مرکزی سنی جمعیت علماء برطانیہ کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد سجاد رضوی، جماعت اہلسنت لندن کے مفتی محمد فیض رسول نقشبندی، سیکرٹری جماعت اہلسنت برطانیہ علامہ اعجاز احمد نیروی، تحریک منہاج القرآن لندن کے علامہ جنید عالم قادری، تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کے علامہ اشفاق عالم، علامہ ریاض احمد قادری، ترجمان مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ واوورسیز علامہ قاضی عبداللطیف قادری، سینئر نائب صدر مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ پیر سید اشتیاق حسین شاہ جیلانی، پریس سیکرٹری مرکزی جماعت اہلسنت صاحبزادہ محمد ظہیر احمد نقشبندی، مولانا قاری محمد شفیع نقشبندی، مولانا حافظ بشیر احمد قادری، خطیب جامع مسجد چنشم علامہ محمد عارف سعیدی اور چیئرمین المصطفیٰ ٹرسٹ عبدالرزاق ساجد شامل تھے۔