مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
الطاف حسین کے خلاف برطانیہ بھر میں مظاہرے، برطانوی وزیراعظم کو احتجاجی یادداشت پیش
لندن ... برطانیہ میں مقیم محب وطن پاکستانیوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی سیاسی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے تمام عناصر کی سرکوبی کرے جو وطن عزیز کے خلاف بولتے ہیں. الطاف حسین نے ملک اور قومی اداروں کے خلاف پہلی دفعہ اپنی مکروہ ذہنیت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ سزا نہ ملنے کی وجہ سے اسکا اور دیگر غداروں کا حوصلہ بڑھتا ہی جارہا ہے. ان جذبات کا اظہار انہوں نے برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ میں کیا. اس مظاہرے کا اہتمام کمیونٹی رہنمائوں طارق ڈار اور سید قمر رضا اور انکے ساتھیوں نے کیا تھا. جن میں کونسلر چوہدری محبوب، صاحبزادہ جہانگیر، امجد خان، ناصر بٹ، محسن باری، ریاض خان، حبیب جان، بیرسٹر صبغت اللہ قادری، الطاف شاہد سدھو، فیصل قادری، بیگم نوادر خان و دیگر شامل تھے. اس موقع پر جزبات کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا ہائوسز پر حملے کرنے والوں کو بھی کڑی سزا رے. ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی جن میں مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے، ایم کیو ایم مردہ باد وغیرہ شامل تھے. بعض ازاں ٹین ڈائوننگ سٹریٹ میں احتجاجی یادداشت بھی پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ الطاف حسین جو برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف عوام کو اکسا رہا ہے اسے قانون کے شکنجے میں لایا جائے. یادداشت برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن پاکستان کے صدر لارڈ نذیر احمد نے ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ پیش کی جس میں برطانوی وزیر اعظم سے کہا گیا کہ برطانوی نیشنل الطاف حسین نے 22 اگست کو اپنی ایک براہ راست تقریر میں جو لندن سے کراچی نشر کی گئی، انہوں نے ایم کیو ایم کے عہدیداروں اور پارٹی ارکان پر مشتمل حاضرین کو کراچی شہر میں تشدد پر اکسایا اور حوصلہ افزائی کی۔ الطاف حسین نے انہیں میڈیا ہاؤسز، سرکاری عمارات اور سول مسلح افواج کا نشانہ بنانے پر اکسایا اور جب ان سامعین نے ان سے جانے اور انہیں نشانہ بنانے کے لئے ان کی اجازت مانگی تو انہوں نے اس پر اپنی آشیرباد دے دی۔ ان کے احکامات پر فی الفور ان لوگوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں کئی نجی میڈیا ہاؤسز پر حملے کئے اور پولیس کے ساتھ تصادم کیا جس میں املاک کے دیگر نقصان کے علاوہ ایک بے گناہ شہری بھی جاں بحق ہو گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نے بڑے واضح انداز میں تشدد پر اکسایا اور میڈیا پر اس کے خاطرخواہ شواہد موجود ہیں جو برطانوی قانون کے تحت ان کے خلاف مقدمہ بنانے کے لئے کافی ہیں۔ خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر کے بعد ایک باضابطہ معافی نامہ جاری کیا اور یہ معافی نامہ بذات خود تشدد پر اکسانے کا ثبوت ہے کیونکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے جرم کیا اور محض معافی مانگ کر اپنی جان چھڑا سکتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے خط میں یہ بھی لکھا کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ الطاف حسین نے دوسرے لوگوں کو پاکستان میں تشدد اور دہشت گردی پر اکسایا اور بے گناہ افراد، سرکاری املاک اور مشینری کے خلاف ایسی کارروائیوں پر تیار کیا یا اکسایا بلکہ ان کے خلاف عدالتوں میں کئی مقدمات زیرالتواء ہیں جن میں ان کے خلاف قتل، منی لانڈرنگ اور نفرت پر مبنی تقریر کرنے یا تشدد پر اکسانے کے لئے برطانیہ اورپاکستان دونوں ممالک میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔ خط میں برطانیہ کے شہری کی حیثیت سے جن کے اہل خانہ اور املاک پاکستان میں موجود ہیں، اور جنہیں الطاف حسین کے قول وفعل سے خطرہ درپیش ہے، درخواست کی گئی ہے کہ الطاف حسین کے خلاف فی الفور قانونی کارروائی کی جائے اور ٹیررازم ایکٹ 2006 SS1-2 اور ٹیررازم ایکٹ 2000 S.59 کے تحت دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے اور اس پر اکسانے پر فردجرم عائد کی جائے۔ خط میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ برطانوی حکومت اور لندن میٹروپولیٹن پولیس اپنی سرزمین کو ایسے کسی شخص کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور اسے دیگر ملکوں میں دہشت گردی پر اکسانے اور حوصلہ افزائی کرنے سے روکے گی اور الطاف حسین کو جلد ازجلد انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کریں اور لندن میٹ پولیس کو اس سلسلے میں کارروائی کی ہدایت کریں۔