مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ جیسے ملک میں نسلی اقلیتوں کو عدم مساوات کا سامنا کسی المئے سے کم نہیں: کمیونٹی رہنما
لندن :اکیسویں صدی میں بھی برطانیہ جیسے ملک میں نسلی اقلیتوں کو عدم مساوات کا سامنا کسی المیئے سے کم نہیں، موجودہ ٹوری حکومت بارہا اس عزم کا اعادہ کرچکی ہے کہ اقلیتوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنایا جائے گا لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہورہا۔ انخیالات کا اظہاربرٹش پاکستانی کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات نے برطانوی ایکوئیلٹی اینڈ ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے تیار کی گئی ایک جائزہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملک میں آباد سیاہ فام اور نسلی اقلیتی افراد کو آج بھی برطانیہ میں گہری نسلی عدم مساوات کا سامنا ہے۔ کمیشن نے روزگار، رہائش، تنخواہ اور فوجداری انصاف کی صورتحال کو بھی تشویش ناک قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیاہ فام گریجویٹس سفید فام کے مقابلے میں اوسطاً 23.1 فیصد کم کماتے ہیں اور نسلی اقلیتیں زیادہ بیروزگار ہیں۔ اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن پاکستان کے صدر لارڈ نذیر احمد، لارڈ قربان حسین، صدر یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس حاجی صدیق، سابق صدرچیمبر اور چیئرمین فرینڈز آف پاکستان پریس کلب یوکے ناہید رندھاوا کا کہنا تھا کہ حکومت برطانیہ کو اپنے عوام کے مساویانہ حقوق کو جلد از جلد یقینی بنانا چاہیئے۔ آج اگر اکیسویں صدی میں بھی ایسا ممکن نہیں تو پھر یہ کب ممکن ہوگا۔ حکومت برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس نے حقیقی سماجی اصلاحات لانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین ڈیوڈ آئزک نے بتایا کہ رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ ایک طرف بریگزٹ کے بعد نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری جانب منظم انداز میں ناانصافی اور نسلی عدم مساوات دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہمیں عدم مساوات سے نمٹنے کے لئے اپنی کوششوں کو فی الفور دوچند کرنا ہو گا ورنہ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی تقسیم بڑھنے اور نسلی کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ جدید برطانیہ میں سیاہ فام یا نسلی اقلیت ہیں تو اکثر آج بھی آپ کو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی اور دنیا میں رہتے ہوں اور ہرگز نہیں لگتا کہ آپ ایک قوم والے معاشرے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ نسلی عدم مساوات آج بھی کس قدر گہری اور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ کمیشن نے موجودہ شواہد کا تجزیہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ انگلینڈ میں سیاہ فام افراد کو سفید فام کے مقابلے میں قتل ہونے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے، بیروزگاری کی شرح نسلی اقلیتوں میں نمایاں حد تک زیادہ ہے، ڈگریوںوالے سیاہ فام کارکن اپنے جیسے سفید فاموں کے مقابلے میں اوسطاً 23.1 فیصد کم کماتے ہیں، نسلی اقلیتی افراد کے غربت میں رہنے کا امکان زیادہ رہتا ہے جبکہ اختیار والے عہدوں مثلاً ججوں اور پولیس سربراہان میں نسلی اقلیتوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نسبتاً غریب سفید فام کمیونٹیز بھی مسلسل محرومی کا شکار ہیں۔ کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ بعض شعبوں میں پیشرفت ہوئی ہے جیسے نسلی اقلیتی ایم پیز کی تعداد میں اضافہ اور تمام نسلی گروہوں میں ڈگری سطح کی کوالیفکیشن کے تناسب میں اضافہ وغیرہ، لیکن ڈیوڈ آئزک کا کہنا تھا کہ حالیہ سالوں میں حکومت کی حکمت علی محض ’’ٹکڑوں والی اور ہکلانے والی‘‘ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایک منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لئے نسلی برابری کا ایک جامع منصوبہ متعارف کرائے جس میں ہماری قسمت کا تعین ہمارے اوریجن سے نہ ہو۔