مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیراعظم پاکستان کا یواین اوجنرل اسمبلی سےخطاب، بان کی مون سے ملاقات !!
نیو یارک ... اقوام ِمتحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نےملاقات کی ہے ، جس میں پاکستان میں ترقیاتی امور، زلزلے کے بعد کی امدادی کارروائیاں اور اقوام متحدہ کی جانب سے امن کی بحالی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور افغانستان کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس موقعے پر، اقوام متحدہ کے سیکریٹری نے وزیراعظم نواز شریف کو اُن کی حکومت کی جانب سے تعلیم اور صحت ِعامہ کے شعبوں کی مد میں زیادہ رقوم مختص کرنے کے حالیہ فیصلے پر مبارک باد دی۔ بان کی مون نے نواز شریف سے بلوچستان میں آنے والے زلزلے اور اُس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور امریکہ یہ حملے بند کرے تاکہ مزید شہریوں کی ہلاکت نہ ہو۔ نہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت لڑی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے سود مند سے نقصان دہ ہیں کیونکہ ان حملوں میں شہریوں کی ہلاکت بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے کہا ’میں نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں کُل جماعتی کانفرنس بھی ہوئی۔ اس کانفرنس میں متفقہ طور پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن مذاکرات کو کمزوری یا خوش کرنے کا طریقہ نہ سمجھا جائے۔