مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیراعظم پاکستان کا یواین اوجنرل اسمبلی سےخطاب، بان کی مون سے ملاقات !!
نیو یارک ... اقوام ِمتحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نےملاقات کی ہے ، جس میں پاکستان میں ترقیاتی امور، زلزلے کے بعد کی امدادی کارروائیاں اور اقوام متحدہ کی جانب سے امن کی بحالی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور افغانستان کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس موقعے پر، اقوام متحدہ کے سیکریٹری نے وزیراعظم نواز شریف کو اُن کی حکومت کی جانب سے تعلیم اور صحت ِعامہ کے شعبوں کی مد میں زیادہ رقوم مختص کرنے کے حالیہ فیصلے پر مبارک باد دی۔ بان کی مون نے نواز شریف سے بلوچستان میں آنے والے زلزلے اور اُس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور امریکہ یہ حملے بند کرے تاکہ مزید شہریوں کی ہلاکت نہ ہو۔ نہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت لڑی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے سود مند سے نقصان دہ ہیں کیونکہ ان حملوں میں شہریوں کی ہلاکت بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے کہا ’میں نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں کُل جماعتی کانفرنس بھی ہوئی۔ اس کانفرنس میں متفقہ طور پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن مذاکرات کو کمزوری یا خوش کرنے کا طریقہ نہ سمجھا جائے۔