مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
وزیراعظم پاکستان کا یواین اوجنرل اسمبلی سےخطاب، بان کی مون سے ملاقات !!
نیو یارک ... اقوام ِمتحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نےملاقات کی ہے ، جس میں پاکستان میں ترقیاتی امور، زلزلے کے بعد کی امدادی کارروائیاں اور اقوام متحدہ کی جانب سے امن کی بحالی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور افغانستان کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس موقعے پر، اقوام متحدہ کے سیکریٹری نے وزیراعظم نواز شریف کو اُن کی حکومت کی جانب سے تعلیم اور صحت ِعامہ کے شعبوں کی مد میں زیادہ رقوم مختص کرنے کے حالیہ فیصلے پر مبارک باد دی۔ بان کی مون نے نواز شریف سے بلوچستان میں آنے والے زلزلے اور اُس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور امریکہ یہ حملے بند کرے تاکہ مزید شہریوں کی ہلاکت نہ ہو۔ نہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت لڑی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے سود مند سے نقصان دہ ہیں کیونکہ ان حملوں میں شہریوں کی ہلاکت بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے کہا ’میں نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں کُل جماعتی کانفرنس بھی ہوئی۔ اس کانفرنس میں متفقہ طور پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن مذاکرات کو کمزوری یا خوش کرنے کا طریقہ نہ سمجھا جائے۔