مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایکسیڈنٹ کے جعلی کلیم کرنے والے گروہ کو کرائون کورٹ سے بھاری سزا کا سامنا
بریڈفورڈ ...کائونٹی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے ایکسیڈنٹ کے جعلی کلیم کرنے والوں کو پریشانی سے دوچار کردیا ہے۔ شفیلڈ کرائون کورٹ نے کریش فار کیش فراڈ کرنے والے چار کے گینگ کےسرغنہ کو 5 لاکھ پونڈ کے ایک فراڈ کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ اس گروہ نے ایک بس میں اپنے جعلی مسافر بٹھا کر اس کی ٹکر ایک اور گاڑی کے ساتھ کرائی ہے اور پھر ان جعلی مسافروں کے ذریعے لاکھوں پونڈ کا انشورنس کمپنیوں سے کلیم حاصل کرنے کے لئے درخواستیں دیں۔ بس کے ڈرائیور ایڈم ہربرٹ نے بھی ان افراد کی جانب سے تیار کی گئی فراڈ کی سازش میں شامل ہونے کا اعتراف کرلیا تھا۔ ان گیارہ افراد کو شفیلڈ کرائون کورٹ سے جیل کی بھاری سزائیں ملنے کا امکان ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے سٹی کلیم فار یو کی طرف سے انشورنس کمپنیوں کو جمع کرائے جانے والے کلیمز کی تحقیقات شروع کی تو معلوم ہوا کہ اس کمپنی کو محمد عمر گلزار اور شعیب نواز چلا رہے تھے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس کے بعد پولیس نے کلیم داخل کرنے والے ہیلی فیکس، شفیلڈ اور رادھرم کے دس افراد کے خلاف بھی تحقیقات کی اور ان کا پتہ چلایا۔ ترجمان نے کہا کہ پولیس نے کلیم کرنیو الے متعدد افرا دکے گھروں میں وارنٹ بھیجے جنہوں نے جواب دیا کہ ان کے حوالے سے فراڈ کے ذریعے سٹی کلیم فار یو نے کلیم داخل کرائے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سٹی کلیم فار یو جن افراد کے انجری کلیم داخل کراتی تھی ان کو جعلی متبادل گاڑیاں بھی فراہم کرتی تھی۔ یہ گاڑیاں سی سی سی ہائر فار یو نامی کمپنی کی ہوتی ہیں اور یہ کمپنی بھی گلزار کی ملکیت تھی۔ اس کیس کی تحقیقات کرنے والے ڈی سی مارک ووٹن نے کہا کہ یہ لوگ انتہائی منظم انداز میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے انشورنس کلیم کرنے والی اپنی کمپنیاں بنا رکھی تھیں اور کاریں ہائر کرنے والی کمپنیاں بھی ان کی اپنی ہوتی تھیں۔ ان سب کے ذریعے جعلی کلیم بھرے جاتے تھے اور یہ لوگ کمپنیوں کو لاکھوں پونڈ کا نقصان پہنچاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ دوسرے لوگوں کے ناموں پر انجری کلیم حاصل کرکے اور کاریں انہیں فراہم کرنے کے بہانے حاصل ہونے والی رقم بھی اپنے جیبوں میں ڈالتے تھے۔ انشورنس فراڈ بیورو کے ڈائریکٹر بین فلاچر کا کہنا ہے کہ جب اس فراڈ کی طرز کے حادثات کرائے جاتے ہیں تو ان کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 ٹن کی بس کے ساتھ اس طرح کا حادثہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ حادثے میں ملوث فرسٹ یوکے بس کے ریجنل منیجر ڈیوایگزنڈر نے کہا کہ اس قسم کے حادثے کی منصوبہ بندی کرنا انتہائی خطرناک ہے۔