مقبول خبریں
چوہدری مطلوب کی رہائشگاہ پر جشن عیدمیلادالنبیؐ کی محفل ،نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا حل ہے: چوہدری فواد حسین
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
نواز علی کی رہائش گاہ پرحضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے سالانہ عرس پرمحفل کا انعقاد
مرغی آنڈے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں جناح وژن مساوات، برداشت اور اجتماعیت پھیلانےکی ضرورت ہے ..!
لندن ...بانی پاکستان محمد علی جناح کی یاد میں پاکستان سوسائیٹی کے زیر اہتمام ہائی کمیشن لندن میں ایک تقریب ہوئی، جس میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن،پروفیسر ایان تالبوٹ، سرولیم بلیک برن، اور کونسلر جیمز شیرا نے خطاب کیا۔ امور پاکستان کے ماہر اور معروف تاریخ دان پروفیسر ایان تالبوٹ نے کہا کہ جناح نے اپنے پیچھے جو تحریری ورثہ چھوڑا اس میں واضح طور پر صنفی مساوات، اقلیتوں کے تحفظ اور کرپشن کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نےعنوان جناح، اجتماعیت اور آئین پاکستان پر تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان کو اس وقت جناح کے وژن مساوات، برداشت اور اجتماعیت کی شدید ضرورت ہے انہوں نے جناح کی 11 اگست 1946ء کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے اپنے وژن لبرل، پروگریسیو اور تحمل و برداشت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں جناح کے وژن کو انسٹی ٹیوشنالائز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے 11 اگست 1946ء کو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے قائداعظمؒ کے خطاب کو پاکستان کا میگناکارٹا قرار دیا جس میں پاکستان کے تمام شہریوں کو بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مساوی حقوق حاصل ہوں گے، ہائی کمشنر نے شرکاء کے ساتھ قائداعظم کی زندگی کے متعدد دلچسپ واقعات بھی شیئر کئے۔ جو انہیں ان کے والد اور قائداعظم کے قریبی ساتھی سید شمس الحسن نے انہیں بتائے تھے۔ پاکستان سوسائٹی کے چیئرمین سر ولیم بلیک برن نے قائداعظم کی سٹوڈنٹ لائف پر روشنی ڈالی جب وہ 1893ء میں انگلینڈ آئے تھے۔ کونسلر جیمز شیرا نے جناح وژن میں برداشت اور پاکستان میں اقلیتوں کے لئے مساوات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسیحیوں نے بھی برصغیر کی تحریک آزادی اور قیام پاکستان میں مثبت کردار ادا کیا۔ کونسلر شیرا نے پشاور چرچ پر حملے کی مذمت کی۔ پاکستانی اوریجن سٹوڈنٹ نوید احمد نے قائداعظم کی جانب سے تنظیم اور تعلیم کو اہمیت دینے کو اجاگر کیا۔ سمپوزیم سوال جواب سیشن پر ختم ہوا جس کو سر ولیم بلیک برن نے کنڈکٹ کیا۔ سر ولیم بلیک برن نے ایونٹ آرگنائزرز مس سیما حسین اور سیدہ سطانہ رضوی کو ان کی جانفشانی پر سراہا۔