مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں جناح وژن مساوات، برداشت اور اجتماعیت پھیلانےکی ضرورت ہے ..!
لندن ...بانی پاکستان محمد علی جناح کی یاد میں پاکستان سوسائیٹی کے زیر اہتمام ہائی کمیشن لندن میں ایک تقریب ہوئی، جس میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن،پروفیسر ایان تالبوٹ، سرولیم بلیک برن، اور کونسلر جیمز شیرا نے خطاب کیا۔ امور پاکستان کے ماہر اور معروف تاریخ دان پروفیسر ایان تالبوٹ نے کہا کہ جناح نے اپنے پیچھے جو تحریری ورثہ چھوڑا اس میں واضح طور پر صنفی مساوات، اقلیتوں کے تحفظ اور کرپشن کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نےعنوان جناح، اجتماعیت اور آئین پاکستان پر تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان کو اس وقت جناح کے وژن مساوات، برداشت اور اجتماعیت کی شدید ضرورت ہے انہوں نے جناح کی 11 اگست 1946ء کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے اپنے وژن لبرل، پروگریسیو اور تحمل و برداشت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں جناح کے وژن کو انسٹی ٹیوشنالائز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے 11 اگست 1946ء کو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے قائداعظمؒ کے خطاب کو پاکستان کا میگناکارٹا قرار دیا جس میں پاکستان کے تمام شہریوں کو بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مساوی حقوق حاصل ہوں گے، ہائی کمشنر نے شرکاء کے ساتھ قائداعظم کی زندگی کے متعدد دلچسپ واقعات بھی شیئر کئے۔ جو انہیں ان کے والد اور قائداعظم کے قریبی ساتھی سید شمس الحسن نے انہیں بتائے تھے۔ پاکستان سوسائٹی کے چیئرمین سر ولیم بلیک برن نے قائداعظم کی سٹوڈنٹ لائف پر روشنی ڈالی جب وہ 1893ء میں انگلینڈ آئے تھے۔ کونسلر جیمز شیرا نے جناح وژن میں برداشت اور پاکستان میں اقلیتوں کے لئے مساوات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسیحیوں نے بھی برصغیر کی تحریک آزادی اور قیام پاکستان میں مثبت کردار ادا کیا۔ کونسلر شیرا نے پشاور چرچ پر حملے کی مذمت کی۔ پاکستانی اوریجن سٹوڈنٹ نوید احمد نے قائداعظم کی جانب سے تنظیم اور تعلیم کو اہمیت دینے کو اجاگر کیا۔ سمپوزیم سوال جواب سیشن پر ختم ہوا جس کو سر ولیم بلیک برن نے کنڈکٹ کیا۔ سر ولیم بلیک برن نے ایونٹ آرگنائزرز مس سیما حسین اور سیدہ سطانہ رضوی کو ان کی جانفشانی پر سراہا۔