مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حکومت دہشت گردوں سےمذاکرات کے بجائے فوری طور پر آپریشن شروع کرے:مسیحی رہنما
لوٹن... مسیحی عوامی پارٹی برطانیہ کا ہنگامی اجلاس پارٹی صدر چوہدری اسلم بھٹی کی صدارت میں ہوا جس میں سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اختر انجیلی، چیف آرگنائزر جاوید عنایت، انفارمیشن سیکرٹری دلاور گل، لیوٹن مسیحی کلیسا کے رہنما پادری سلیم قیصر، ڈاکٹر ڈیوڈ عرفان اور پارٹی کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔ چوہدری اسلم بھٹی نے سخت الفاظ میں پشاور چرچ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مسیحی عبادت میں مصروف تھے 80سے زائد مسیحی شہید ہوئے ایک سو پچاس مسیحی شدید زخمی ہوئے المیہ نااہلی اور سیکورٹی اداروں کی نا کامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے یہ لڑائی شدت پسند عناصر اور حکومت کی اپنی جنگ ہے مسیحیوں کا اس سے کوئی سروکار نہیں، خدارا اس جنگ میں مسیحیوں کو نہ دھکیلیں۔ دلاور گل اور جاوید عنایت نے کہا حکومت متاثرہ خاندانوں کو کم از کم 25 لاکھ فی کس حساب سے معاوضہ دے۔ ڈاکٹر اختر انجیلی نے حکومت پر زور دیا کہ عملی طور پر مجرموں کو گرفتار کرکے کیفر دار تک پہنچایا جائے۔ آخر میں پادری سلیم قیصر نے پاکستان میں خوشحالی اور ملک کی سلامی کے لئے دعائے خیر مانگی جو اس سانحہ میں شہید ہوئے ہیں ان کیلئے دعا کی۔ دریں اثنا پاکستان ہائی کمیشن لندن کے بہے بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس موقع پر منتظم برٹش پاکستانی کرسچن ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ انتہا پسندی کے خلاف فوری طور پر آپریشن شروع کیا جائے اور پاکستان کے دشمنوں کو مزید تباہی پھیلانے کا موقع نہ دیا جائے۔ مظاہرین نے پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا اور مسیحیوں کو قتل کرنے کی مذمت کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ چرچ تعمیر کرکے دینا حکومت کا فرض بنتا ہے مگر مسیحیوں کو سکون اس وقت ملے گا جب پاکستان میں دہشت گردی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں صرف مسیحیوں کا نقصان نہیں ہوا بلکہ ساری دنیا مین پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے بجائے ان کے خلاف فوری طور پر آپریشن شروع کرے۔ انہوں نے پاکستان ہائی کمیشن میں ایک یادداشت بھی پیش کی۔ مظاہرین سے خطاب کرنے والوں میں ندیم اعظم، کشن بینٹ، تسکین خان، رباب رضوی، ولسن چوہدری تبریز اورہ و دیگر شامل تھے۔