مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ مسلسل حالتِ جنگ میں رہنے کی پالیسی تبدیل کرنےپر نظرِ ثانی کر رہا ہے: امریکی صدر
نیو یارک ... اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک مسلسل حالتِ جنگ میں رہنے کی پالیسی تبدیل اور انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن کو لاحق خطرات کے باوجود اس وقت دنیا پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ مستحکم ہے اور مشرق وسطی اور افریقہ میں ممکنہ خطرات کا سر کچلنے کے لیے امریکہ براہ راست فوجی کارروائیاں کرتے رہے گا جہاں کہیں بھی سفارت کاری ناکام ہو گئی وہاں فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی بنیاد ہونی چاہیے لیکن اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کرنا مشکل ہے لیکن وہ سفارت کاری کو موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ شام کی صورتِ حال کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ شام اور دیگر جگہوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال نے عالمی برادری کی ساکھ پر سوال کھڑے کردیے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی نگرانی میں دینے سے متعلق امریکہ اور روس کے معاہدے کے حق میں ایسی قرارداد منظور کرے جس میں معاہدے سے روگردانی کی صورت میں شام کے خلاف کاروائی کا آپشن موجودہے۔