مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ مسلسل حالتِ جنگ میں رہنے کی پالیسی تبدیل کرنےپر نظرِ ثانی کر رہا ہے: امریکی صدر
نیو یارک ... اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک مسلسل حالتِ جنگ میں رہنے کی پالیسی تبدیل اور انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن کو لاحق خطرات کے باوجود اس وقت دنیا پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ مستحکم ہے اور مشرق وسطی اور افریقہ میں ممکنہ خطرات کا سر کچلنے کے لیے امریکہ براہ راست فوجی کارروائیاں کرتے رہے گا جہاں کہیں بھی سفارت کاری ناکام ہو گئی وہاں فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی بنیاد ہونی چاہیے لیکن اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کرنا مشکل ہے لیکن وہ سفارت کاری کو موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ شام کی صورتِ حال کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ شام اور دیگر جگہوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال نے عالمی برادری کی ساکھ پر سوال کھڑے کردیے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی نگرانی میں دینے سے متعلق امریکہ اور روس کے معاہدے کے حق میں ایسی قرارداد منظور کرے جس میں معاہدے سے روگردانی کی صورت میں شام کے خلاف کاروائی کا آپشن موجودہے۔