مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
غیرقانونی طور پر برطانیہ آنے والوں کے لیے مزید قانونی حدود مقررکر دی گئیں:تھریسا مے
اسلام آباد ...برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مے نے کہا ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے پاکستان سے ہر ممکن تعاون کریں گے اسلام آباد میں پاکستانی ہم منصب چودھری نثار علی سے ملاقات اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ برطانیہ نے اپنے ہاں جرائم اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے دیگر ممالک سے ہجرت کر کے غیرقانونی طور پر آنے والوں کے لیے کچھ قانونی حدود مقرر کیں جن کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان اور برطانیہ نے جرائم کی بیخ کنی کے لیے انسانوں اور منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم کی روک تھام کے معاملے پر ایک معاہدے پردستخط کیے ہیں۔ منگل کو اس معاہدے پر دستخط برطانوی وزیرِ داخلہ ٹیریسا مے کے دورۂ پاکستان کے دوران کیے گئے۔ جس کے تحت دونوں ممالک منشیات اور انسانی سمگلنگ کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کی خفیہ ایجنسیاں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گی تاکہ دونوں ممالک میں سنگین نوعیت کے بڑے جرائم اوردہشت گردی کو روکا جا سکے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے برطانوی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں رہائش کے مقصد کے لیے آنے والوں کی تعداد پہلے سے کم کی جا رہی ہے اوراس سلسلے میں بعض اہداف مقرر کیے گئے ہیں کیونکہ اس رجحان کو قابو کرنا بڑا ضروری ہوگیا ہے اور یہ بہت سارے شعبوں میں برطانیہ کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صرف ان لوگوں کی برطانیہ آمد کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جواس معاشرے میں فعال اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے آ رہے ہوں نہ کہ وہ جرائم میں اضافے کا باعث بنتے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے بعض اثرات نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔ تھریسا مے کا کہنا تھا کہ جرائم اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے برطانیہ میں ایک نئی برطانوی کرائم ایجنسی کام شروع کرے گی جو ان سارے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی غیرقانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کے لیے تمام ممالک خصوصاً برطانیہ کے ساتھ تعاون کرے گا کیونکہ یہ عمل پاکستان کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے، اور جب ایسی کوئی خبر آتی ہے کہ کسی جرم میں کوئی پاکستانی ملوث پایا جائے تو اسے وہ خود بھی اپنے لیے سخت شرمندگی کا باعث سمجھتے ہیں۔