مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ملکہ برطانیہ نے پاکستانی زینب بی بی اور محمد عثمان کو2016 کوئینز ینگ لیڈرز ایوارڈ پیش کئے
لندن:ملکہ برطانیہ نے بکنگھم پیلس میں ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے زینب بی بی اور محمد عثمان خان کو2016 کوئینز ینگ لیڈرز ایوارڈ پیش کئے۔ شہزادہ ہیری نے ملکہ برطانیہ کے ہمراہ تقریب میںخصوصی شرکت کی جس میں دولت مشترکہ سے تعلق رکھنے والے ان بے مثال نوجوانوں کے کردار کو تسلیم کیا گیا جو اپنی اپنی کمیونٹیز میں دیرپا تبدیلیاں لانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ سابق وزیراعظم اور چیئرمین دی کوئین الزبتھ ڈائمنڈ جوبلی ٹرسٹ سر جان میجر، ڈیوڈ بیک ہیم اور سر لینی ہینری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس نے بھی بکنگھم پیلس میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی نوجوانوں سے ملاقات کی اور یہ باوقار ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے ان کی کوششوں کو سراہا۔ ہائی کمشنر نے انہیں پاکستانی نوجوانوں کے لئے مثالی کردار قرار دیا۔ انہوں نے تقریب میں موجود معزز مہمانوں کے سامنے بھی اظہار خیال کیا۔ زینب بی بی ماحولیات کی سرگرم کارکن ہیں جو قابل تجدید توانائی میں بھرپور دلچسپی رکھتی ہیں۔ 2013 میں انہوں نے گرین انرجی سلیوشنز پر آگاہی بہتر بنانے کے لئے پاکستان سوسائٹی فار گرین انرجی قائم کی۔ پھر انہوں نے فالتو ٹشو پیپر سے بائیوایتھانول (ایک حیاتیاتی ایندھن) تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی جو صاف توانائی کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔ زینب نے پاکستان میں امریکہ سے ایک پودا متعارف کرایا جس سے بائیوایتھانول (بائیوڈیزل) تیار ہوتا ہے۔ ’کیملینا سیٹائیوا‘ کی افزائش کا عرصہ کم ہے اور یہ خشک سالی کے خلاف بہتر مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی بناء پر پاکستان کے صحرائی علاقوں میں اس کی افزائش ہو سکتی ہے۔ محمد عثمان خان تمام بچوں کو حصول تعلیم میں مدد دینے کے لئے سرگرم ہیں۔ برٹش کونسل کے ایکٹو سٹیزنز پروگرام میں حصہ لینے کے بعد انہوں نے سٹریٹ چلڈرن کے لئے ’بیک ٹو لائف انٹرٹینمنٹ‘ کے نام سے ایک ایک پروگرام تشکیل دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس پروگرام کو آگے بڑھایا اور 500 سے زائد نوجوانوں کو چار شہروں میں اس پروگرام پر رضاکارانہ عملدرآمد پر مائل کیا۔ محمد عثمان نے بیلی آرگنائزیشن کی بنیاد بھی رکھی جس کا مقصد غیرمراعات یافتہ نوجوانوں کو تعلیم دینا اور ان کی مدد کرنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے آبائی گائوں چلے گئے اور وہاں ’ری تھنکنگ ایجوکیشن‘ کمیونٹی سکول قائم کیا اور ’ایجوپاورمنٹ‘ کے نام سے ایک پروگرام تخلیق کیا جو طلبہ کو کمپیوٹر اور انگریزی زبان میں مہارتوں کے علاوہ امن کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر میجسٹی ملکہ برطانیہ کی 90 ویں سالگرہ کے سال میں دی کوئینز ینگ لیڈرز، جن میں پاکستان سے ایوارڈ جیتنے والے نوجوان بھی شامل ہیں، گزشتہ ایک ہفتے سے لندن اور کیمرج میں ہونے والی سلسلہ وار اعلیٰ سطح کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں گلوبل سوشل نیٹ ورکنگ کمپنی ٹوئٹر کی طرف سے دئیے گئے ایک چیلنج میں شرکت، بی بی سی ورلڈ کے سینئر ایگزیکٹوز سے ملاقات اور ٹین ڈائوننگ سٹریٹ کا دورہ بھی شامل ہے۔ پروگرام کے سلسلے میں انہوں نے یونیورسٹی آف کیمرج کے انسٹی ٹیوٹ آف کانٹی نیوئنگ ایجوکیشن میں قیادت کی تربیت حاصل کی، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، اے ایم وی بی بی ڈی او اور پی ڈبلیو سی سے تعلق رکھنے والے برطانیہ کے کاروباری لیڈروں سے ملاقات کی اور زندگیاں بدلنے کے پراجیکٹس پر کام کرنے والے برطانیہ کے چیریٹی اداروں کے لیڈروں کے خیالات سنے۔ 2017 کے کوئینز ینگ لیڈرز ایوارڈ جیتنے والوں کی تلاش 24 جون 2016 بروز جمعہ سے شروع ہو چکی ہے۔ اگر آپ بھی کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اپنی کمیونٹی میں شاندار خدمات انجام دے چکے ہوں تو انہیں نامزد کرنے کے لئے اس ویب سائٹ پر جائیں: www.queensyoungleaders.com