مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دوبارہ ریفرنڈم 32 لاکھ برطانویوں کا مطالبہ، جو اتحاد سے نکل گیا وہ نکل گیا:یورپی یونین
لندن:برطانیہ میں یورپی یونین میں شامل رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ایک اور ریفرنڈم کروانے کیلئے ایک آن لائن پٹیشن پر 32 لاکھ سے زائد برطانوی شہریوں نے دستخط کردیئے ہیں،برطانیہ کی پارلیمانی روایت کے مطابق اب اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہوگی۔ ادھریورپی کمیشن کے سربراہ جین کلائوڈ جنکرنے کہا کہ جو اتحاد سے نکل گیا وہ نکل گیا۔اب برطانیہ سے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہیں گے ۔انہوں نے کہا برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج صلح صفائی سے ہونیوالی طلاق نہیں ہے ۔انہوں نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ جلد یہ عمل مکمل کرے ۔جرمن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ برطانیہ کو طلاق کا خط یورپی یونین کو بھجوانے کیلئے اکتوبر تک انتظار کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ طلاق کے بعد اب پہلی جیسی محبت نہیں رہے گی، اب برطانیہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھنا چاہتا ہے کیونکہ برطانیہ یہ نہیں کر سکتا ہے کہ اپنی مرضی کی چیزوں میں تو شامل ہو اور باقی کو چھوڑ دے ۔اس معاملے میں اپنی مرضی چلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا (کیونکہ) جو نکل گیا وہ نکل گیا۔برلن میں یورپی یونین کے بانی ممالک جرمنی، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، بلجیئم اور لکسمبرگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا ،اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو یورپی یونین سے نکل جانے کے عمل کا باقاعدہ آغاز کرے ۔اگر برطانوی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے سوچیں تو اسی طرح یورپی یونین کے رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اتحاد کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ بانی ارکان کے لیے ضروری ہے کہ یورپی یونین کی شکل میں ’آزادی اور استحکام ‘کے جس منصوبے کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی اسے بچایا جائے ۔فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے عمل کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ساری توجہ جرمنی اور فرانس کے سرکاری افسران کے تجویز کردہ اس خاکے کو حتمی شکل دینے پر نہیں صرف ہونی چاہیے جس میں یورپی اتحاد کو ایک ایسا لچکدار ادارہ دکھایا جا رہا ہے جس میں رکن ممالک کو ’ایسی فضا‘ مہیا کی جائے کہ وہ جب شمولیت کرنا چاہتے ہیں کریں اور جب چاہیں اتحاد کے معاملات میں شامل نہ ہوں۔ہماری ساری توجہ اس اتحاد کو غیر لچکدار بنانے پر مرکوز نہیں ہونی چاہیے ۔ہمیں یورپ کو ایک نئی سوچ، نیا احساس دینا ہوگا وگرنہ اتحاد میں جو خلا آ گیا ہے اسے عوامیت پُر کر دے گی۔یور پی یونین میں برطانوی یورپی کمشنر لارڈ ہل نے اعلان کردیا ہے کہ وہ جلد مستعفی ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا ریفرنڈم میں جو ہوگیا اب و ہ واپس نہیں ہوسکتا،میرے لیے یہ ضروری نہیں کہ میں مزید اپنا کام جاری رکھوں،انہوں نے کہا کہ اس عہدے پر کسی کا انتخاب ہونے تک وہ کام کرتے رہیں گے ۔سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نیکولا سٹرجین نے کہا کہ وہ فوری طور پر یورپی یونین سے مذاکرات شروع کرینگی تاکہ یورپی یونین میں سکاٹ لینڈ کی جگہ محفوظ بنائی جاسکے ۔ برطانوی پارلیمنٹ کی رکن سعیدہ وارثی نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہاتھا کہ ریفرنڈم جیسی تحریکوں کو سپورٹ نہ کیاجائے اب بھی میں اپنے اس موقف پر قائم ہوں،برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی برطانیہ کے لیے ایک دھچکاہے ،علیحدگی کامعاملہ کافی عرصے سے چل رہاتھا۔ادھربرطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر دوسری کرنسیوں کے مقابلے میں برطانوی پاؤنڈ کی تنزلی مسلسل جاری ہے ۔گزشتہ روز بھی روپے کے مقابلے میں پائونڈ کی قدرمیں6روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔یورو کی قدرمیں1روپے کی کمی ریکارڈکی گئی۔دنیا کی بڑی سٹاک مارکیٹیں دوسرے روز بھی کریش کرگئیں،اب تک سرمایہ کاروں کے 2.1 ٹریلین ڈالر ڈوب چکے ہیں۔ڈوجانز انڈسٹریل ایوریج میں مجموعی طور پر 3.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ انڈیکس میں ایک دن میں مجموعی طور پر 610 پوائنٹ کی کمی دیکھنے میں آئی جو گزشتہ پانچ برسوں میں کسی ایک روز میں سب سے زیادہ کمی ہے ۔ناسڈک کمپوزٹ انڈیکس میں مجموعی طور پر 4.1 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی اور انڈکس 4707.98 پوائنٹس تک گر گیا۔ ٹوکیو،بیجنگ،شنگھائی اور ممبئی سٹاک مارکیٹس بھی گرگئیں۔بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے برطانیہ کی کریڈٹ ریٹنگ کو کم کرتے ہوئے منفی کر دیا ہے ۔موڈیز کا کہنا ہے کہ ووٹ کا نتیجہ غیر یقینی صورت حال کاایک طویل دور ہے ۔موڈیز نے کہا کہ ریفرنڈم کے نتیجے میں ملک کے درمیانی مدت کے ترقی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس نے برطانیہ کے طویل مدتی فراہم کنندہ اور قرض کی ریٹنگ کو مستحکم سے منفی کر دیا ہے ۔ماہرین کے مطابق برطانیہ کے باعث پاکستان کی برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔