مقبول خبریں
چوہدری مطلوب کی رہائشگاہ پر جشن عیدمیلادالنبیؐ کی محفل ،نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا حل ہے: چوہدری فواد حسین
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
نواز علی کی رہائش گاہ پرحضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے سالانہ عرس پرمحفل کا انعقاد
مرغی آنڈے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ یورپی یونین سے الگ،عوام کا تاریخی فیصلہ آ گیا، ڈیوڈکیمرون کا مستعفی ہونے کا اعلان
لندن /برسلز:برطانوی عوام نے 43 سال بعد ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کا تاریخی فیصلہ دیدیا۔اپنے موقف کی ناکامی پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اکتوبر میں مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔نتائج کے مطابق 51.9فیصد عوام نے یورپی یونین سے اخراج جبکہ.9 48 فیصد نے شامل رہنے کی حمایت کی،اس طرح اخراج کے حق میں1کروڑ74لاکھ10ہزار 7سو42ووٹ جبکہ شامل رہنے کے حق میں1کروڑ61لاکھ41ہزار2سو41ووٹ پڑے ۔ریفرنڈم میں عام انتخابات سے بھی زیادہ ووٹ پڑے ۔ریفرنڈم میں ٹرن آئوٹ72فیصد رہا۔23جون کو ہونے والے ریفرنڈم میں لوگوں سے سوال پوچھا گیا تھاکہ کیا برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ بنے رہنا چاہیے یا یورپی یونین سے الگ ہو جانا چاہیے ؟گزشتہ چار ماہ سے برطانیہ میں اس معاملے پر بھرپور مہم چلائی گئی۔وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون،لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن نے یورپی یونین کا حصہ رہنے جبکہ یوکے آئی پی پارٹی کے نائجل فراج اور بورس جانسن نے علحدگی کیلئے مہم کی قیادت کی۔نتائج کے مطابق جبرالٹر نامی علاقے میں95فیصد افراد نے اخراج کے حق میں ووٹ دیا۔برطانیہ میں 53فیصد افراد نے اخراج جبکہ 46فیصد نے شامل رہنے کی حمایت کی،شمالی آئر لینڈ میں44فیصد افراد نے اخراج جبکہ 55فیصد نے شامل رہنے کی حمایت کی،سکاٹ لینڈ میں38فیصد افراد نے اخراج،62فیصد نے شامل رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ویلز میں52فیصد نے اخراج،47فیصدنے شامل رہنے کی حمایت کی۔لندن میں یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔اس فیصلے کے بعد برطانیہ یورپی یونین کو چھوڑنے والا پہلا ملک بن گیا ۔ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے پر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر پریس کانفرنس کے دوران ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ عوام نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا ، اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اب ایک نئے وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو یورپی یونین سے مذاکرات کرے ۔انہوں نے کہا کہ پیر کے روز کابینہ کی میٹنگ ہوگی جس میں یورپی یونین سے علیحدگی کے عوامی فیصلے پر مشاورت ہوگی جس کے بعد یورپی یونین کے عہدیداروں سے ملاقات میں انہیں برطانوی عوام کے فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ملک کا 6 سال تک وزیراعظم رہنے پر فخر ہے ، اکتوبر میں برطانوی قوم کو اب نیا لیڈر منتخب کرنا ہے ۔گزشتہ دودہائیوں سے یورپی یونین سے اخراج کے حامی یو کے آئی پی جماعت کے سربراہ نائیجل فاراج نے جمعہ کو برطانیہ کا یومِ آزادی قرار دیدیا۔انہوں نے کہا کہ اب یورپی یونین مر رہی ہے ۔لندن کے سابق میئر اور یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی بورس جانسن کا کہنا ہے کہ عوام نے برطانیہ اور یورپ میں جمہوریت کے حق میں آواز اٹھائی ہے ۔سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ نتیجہ ملک، یورپ، اور دنیا کے لیے بہت اداس کن ہے ۔لندن کے میئر صادق خان نے برطانوی عوام اور عالمی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ انھیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ میں اب بھی یقین کرتا ہوں کہ اگر ہمارا ملک یورپی یونین کا حصہ رہتا تو بہتر ہوتا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لندن دنیا کا کامیاب ترین شہر ہی رہے گا۔ لندن میں ہزاروں افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں شہر کے میئر صادق خان سے کہا گیا ہے کہ وہ لندن کو ایک آزاد ریاست بنانے کا اعلان کریں۔ریفرینڈم نتائج کے بعد حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے دو ارکان پارلیمنٹ نے اپنی جماعت کے رہنما جرمی کوربن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ہے ۔سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نیکولاسٹرجین نے سکاٹ لینڈ میں آزادی ریفرنڈم کیلئے تیاری کا اعلان کردیا ۔یادرہے کہ یورپی کمیونٹی میں شمولیت کے معاملے پر برطانیہ میں1975میں ایک ریفرنڈ م ہوا تھا جس میں67فیصد عوام نے یورپی کمیونٹی کا حصہ بننے کی حمایت کی تھی۔ ادھر یورپی یونین نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ تنظیم سے علیحدگی کا عمل جلد از جلد مکمل کرے تاکہ غیریقینی صورتحال برقرار رہے گی۔نتائج کے بعدیورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن سکلز، یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک، یورپین کمیشن کے سربراہ جین کلاڈ جنکر،فرانسیسی صدر اور ڈنمارک کے وزیرِ اعظم مارک رُوتے نے بھی ہنگامی اجلاس منعقد کیے ۔فرانسیسی صدرنے کہا کہ ریفرنڈم کے نتائج نے یورپ کو کڑے امتحان سے دوچار کردیا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو گہری اور مناسب تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔اٹلی کے وزیر اعظم نے برطانوی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو منصفانہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔جرمن چانسلرانگیلا مرکل نے کہا کہ ریفرنڈم کا نتیجہ آنے کے بعد بھی یورپی یونین کے مستقبل سے متعلق مکالمت میں برطانیہ کو آئندہ بھی شامل رہنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ منگل کو شروع ہونے والی یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس میں ہم مل کر اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ یہ مشورے کریں گے کہ آئندہ بھی مشترکہ یورپی ایجنڈے پر عمل درآمد کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر نے کہاکہ برطانیہ کے یورپی یونین کا ساتھ چھوڑنے کی خبر نے انہیں حقیقی معنوں میں اداس کر دیا ۔ ان کے بقول یہ یورپ اور برطانیہ کے لیے ایک دکھی دن ہے ۔ فن لینڈ کے سابق وزیر اعظم الیگزینڈر اسٹوب نے کہا کہ کوئی انہیں نیند سے جگا کر یہ کہے کہ یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا۔یورپی کمیشن کے صدر کلاڈ جینکر نے کہا ہے کہ جب تک برطانیہ ای یو کا رکن ہے اس پر یورپی یونین کے قوانین کا اطلاق ہوتا رہے گا اور اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ برطانیہ مستقبل میں یورپی یونین کا قریبی شراکت دار رہے گا۔یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ہم اپنا اتحاد 27 ممالک تک برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہیں، میں تجویز کروں گا کہ ہم اپنے اتحاد کے لیے بڑے پیمانے پر صلاح و مشورے کا آغاز کریں۔یوکرائن کے وزیراعظم ولادومیر گروسمین نے کہا کہ یہ دن متحدہ یورپ کے لیے اچھا دن نہیں ہے ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹے نے کہا ہے کہ انہیں برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلہ سے مایوسی ہوئی ہے تاہم اس فیصلہ کو یورپی یونین کے معاملات میں اصلاحات لانے کے محرک کے طور پر دیکھنا چاہیئے ۔یورپی سربراہوں کا اجلاس منگل کو ہوگا جس میں برطانوی فیصلے کے نتائج پر غور کیا جائے گا۔