مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اسلامی نظریاتی کونسل نے ڈی این اے اور توہین رسالت جھوٹی گواہی کے قوانین کو رد کردیا
اسلام آباد ... پاکستان کی مقننہ کو قانون سازی کے لئے معاونت فراہم کرنے والے ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اےٹیسٹ واحد اور بنیادی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ کونسل کے دیگر ارکان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شیرانی نے جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت کے طور پر قبول کرنے اور توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت دینے کی تجاویز کو رد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت میں ڈی این اے ٹیسٹ کو معاون یا اضافی شواہد کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے لیکن صرف اس کی بنیاد پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کونسل نے خواتین کے حقوق کے بارے میں وومن پروٹیکشن ایکٹ دو ہزار چھ کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ یہ اسلامی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ حدود آرڈننس میں ان تمام جرائم کا احاطے کیا گیا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا تعلق جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ سے ہے انھوں نے کہا کہ اسلام میں جنسی زیادتی کے مقدمات سے نمٹنے کے تمام طریقے موجود ہیں۔