مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برٹش پاکستانی صحافیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لندن تنازعہ بخوبی حل کرلیا گیا
لندن ... برطانوی دارالحکومت میں پی ٹی آئی ایک مظاہرے کے دوران صحافیوں سے بدتمیزی کے معاملے کو پاکستان پریس کلب اور پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے مشترکہ پلیٹ فارم سے احسن انداز میں نبٹا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پچیس مئی کو وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے گھر کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے میں چند افراد کی طرف سے اے آر وائی کے سینئر رپورٹر احمد علی سید اور جیو کے مرتضیٰ علی شاہ سمیت دیگر صحافیوں سے بدتمیزی کے خلاف پی ٹی آئی یوکے کی تمام سرگرمیوں کے بائکاٹ کا اعلان کردیا گیا تھا۔ برطانیہ کی دو بڑی صحافتی تنظیموں کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ جب تک پی ٹی آئی اس رویئے کی معافی نہیں مانگتی اور بداخلاقی کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی کاروائی نہیں کرتی انکی تمام سرگرمیوں کی کوریج کا بائکاٹ کیا جائے گا۔ گذشتہ روز پی ٹی آئی یوکے کے منتخب ارکان نے صاحبزادہ جہانگیر اور رومی ملک کی معیت میں پاکستان پریس کلب اور پی جے اے کے نمائینگان سے ملاقات کی اور سینئر صحافیوں سے ہونے والی بدتمیزی کی معافی مانگی اور متعلقہ افراد کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کرائی جس پر متاثرہ صحافیوں نے پی ٹی آئی سے اپنی رنجش ختم کردی۔ اجلاس میں پریس کلب کی طرف سے جنرل سیکریٹری شوکت ڈار، سابق صدر فیاض غفور، سابق سیکریٹری جنرل اظہر جاوید، نائب صدر نسیم صدیقی اور پی جی اے کی جانب سے وجاہت علی خان اور غلام حسین حسین اعوان نے نمائینگی کی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی طرف سے صدر ریاض حسن اور سیکریٹری جنرل زاہد پرویز نے تمام معاملات پر صحافیوں کو اعتماد میں لیا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کی جانب سئ جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دونوں اطراف سے اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ برطانیہ میں آباد کمیونٹی اور مملکت خداداد پاکستان کی بہتری کیلئے میڈیا کی آزادی انتہائی ضروری ہے اور اسے یقینی بنانا تمام سیاسی، غیر سیاسی پارٹیوں اور اداروں کا کام ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے ناخوشگوار واقعے میں جزوی طور پر ملوث پی ٹی آئی کے رکن فیصل خواجہ کو شوکاز نوٹس بھجوایا جائے گا کیونکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے بدزبانی کرنے والے شخص کو سپورٹ کیا۔ دیگر دو افراد جو اس واقعے میں ملوث ہیں انکا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، تاہم پی ٹی آئی اس امر کو یقینی بنائے گی کہ دونوں افراد آئیندہ انکے کسی فنکشن میں نہ آئیں۔ ان دونوں افراد کو اس فیصلے سے آگاہ بھی کیا جائے گا اور اگر وہ مستقبل میں بھی باز نہ آئے تو انکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی یوکے ان افراد سے اپنے تعلق کو جوڑنے سے گریزاں رہے گی۔ دونوں اطراف کا مشترکہ موقف تھا کہ انہیں ان افراد کے غیر ذمہ دارانہ رویئے سے دکھ پہنچا جس سے پارٹی اور صحافیوں کے درمیان تنائو کی کیفیت پیدا ہوئی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ وہ میڈیا سے مسلسل رابطے کیلئے ایک فرد کا انتخاب کرے گی جو میڈیا کے تمام معاملات کا ذمہ دار ہوگا۔ سائوتھ آل کے ٹی کے سی ریسٹورنٹ میں ہونے والے اس اجلاس میں پی ٹی آئی اور میڈیا کے دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔