مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مذہب اللہ سے رشتہ جوڑنے کیلئے ہے نا کہ سیاسی طاقت حاصل کرنے کیلئے: عابد حسن منٹو
لندن عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ عابد حسن منٹو نے پارٹی کے برطانیہ میں منعقد ہونیوالے کنوینشن میں پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوےٓ واضع کیا کہ باییں بازو کی جماعتوں کا عوامی ورکرز پارٹی کی صورت میں متحد ہوجانا، یہ ظاہر نہیں کرتا کہ ہم مذیہب کے خلاف ہیں۔ بلکہ مذہب کی ریاستی امور میں مداخلت اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلےٓ مذہب کے استعمال کے خلاف ہیں، جوکہ عوام کے دل کی آواز ہے۔ اس وقت پاکستان کے بلدیاتی نظام میں ہمارے کم و بیش ڈیڑھ سو کاوٓنسلرز کا منتخب ہونا ان نظریات اور پارٹی کی بڑھتی ہویؑ مقبولیت کا ثبوت ہے۔ خصوصی طور پر قایدِ اعظم کے ۱۱ اگست ۱۹۴۷ کے خطاب کا ذکر کرتے ہوےٓ انہوں نے کہا کہ قایدِ اعظم ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے، جس میں ہر کسی کو مکمل مذہبی آزادی ہوگی اور ریاستی اور حکومتی امور کا مذہب سے کویٓ تعلق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انکی پارٹی صرف اور ٖصرف مزدور کے حقوق کیلیےٓ آواز اٹھاتی ہے۔ مزدور صرف جسمانی مشقت کرتے والے افراد ہی نہیں ، بلکہ اس میں صحافی، دانشور، فنکار، استاد اور دیگر مازم پیشہ و پیشہ ور افراد شامل ہیں جو اپنی روزی اپنا ہنر اور وقت کے عوض کماتا ہے۔ انہوں نے تاریخی حوالوں سے واضع کیا کہ انکی پارٹی حقِ خود ارادیت کی ہمیشہ سے حامی رہی ہے، اس لیےؑ قیامِ پاکستان کے حوالے سے بھی اس پارٹی کے پیش رووٓں کا کردار پاکستان کے حق میں رہا ہے۔ لیکن پاکستان قایم ہو چکنے کے بعد، جب اقتدار پہ قابض طاقتوں نے قیامِ پاکستان کے مقاصد کے برعکس مذہب کا ناجایز استعمال کیا اور لوگوں کو انکے حقوق کی خلاف ورزیان کیں، جس پر ہم نے احتجاج کیا، تو ہم پر پاکستان کی مخالفت کا الزام لگا کے ہماری پارٹی کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی گیؑ جو ایک لمبے عرصہ تک برقرار رہی۔ عابد حسن منٹو نے اپنی جامع تقریر میں ان تمام پہلووٓں کا احاطہ کیا، جن کی بنیاد پر پارٹی پر داییں بارو کی جماعتیں مسلسل تنقید کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم سیکولرازم کا ذکر کرتے ہیں تو اسکا معانی تمام مذاہب کا احترام ہوتا ہے ناکہ لا دینیت۔ سیاسی امور میں مذہب کی مداخلت کو اس لیےؑ نامناسب سمجھتے ہیں کہ سیاسی عمل میں بیشمار اغلاط ہوتی ہیں، اور مختلف سیاسی جماعتیں مذہب کی اپنی اپنی تشریح کرتی ہیں جبکہ مذہب ایک مقدس فلسفہ ہے، مذہب عبادت کیلیےؑ ہے، اللہ سے رشتہ جوڑنے کیلیےؑ ہے نا کہ سیاسی طاقت حاصل کرنے کیلیےؑ آپس میں دست و گریباں ہونے کیلیےؑ۔ دیگر مقررین میں محسن ذوالفقار، کامریڈ مہوش، کامریڈ عینی، تنظیم کے سیکریٹری کامریڈ منیب انور اور معروف صحافی آیؑ اے رحمان شامل تھے، جبکہ سٹیج سیکریٹری کامریڈ مصطفے کمال تھے۔ تقاریر کے بعد ایک تفریحی و ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا، جسے کلاسیکل رقاصہ آمنہ معاذ کے رقص سے سجایا گیا اور اس حصہ کہ میزبانی پنجابی کی معروف شاعرہ محترہ نذہت عباس نے کی۔