مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جموں کشمیر ریاستی اسمبلی میں بھارتی انٹیلی جنس کےعمل دخل پر وزارت دفاع الرٹ
سری نگر... سابق بھارتی فوجی سربراہ کی طرف سے جموں کشمیر ریاستی اسمبلی میں بھارتی انٹیلی جنس کے عمل دخل کے الزام پر وزارت دفاع نے کہا ہے کو اس بارے میں مکمل چھان بین کریں گے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے محکمہ دفاع کی ایک خفیہ رپورٹ شائع کی تھی کہ جس میں کہا گیا ہے کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی تھی اور اس کے لیے انہوں نے خفیہ سروس کے فنڈ کا غلط استعمال کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عمر عبدللہ کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے ملٹری کی خفیہ یونٹ سے سوا کروڑ روپے ان کی کابینہ کے ایک وزیر کو دیےگئے تھے۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل سنگھ نے اپنے جانشیں جنرل بکرم سنگھ کو بّری فوج کا سربراہ نہ بننے دینے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم کو فنڈز فراہم کیے تھے۔ اس تنظیم نے ایک دیگر این جی او کے ذریعے جنرل بکرم سنگھ کے خلاف کشمیر میں فرضی تصادم کے ایک کیس کے سلسلے میں مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنرل وی کے سنگھ نے فوج میں ایک خفیہ یونٹ تشکیل دی تھی جس نے کشمیر میں فون ٹیپ کرنے کے لیے مشینین خریدیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مشینوں کا استعمال ملٹری کی خفیہ یونٹ نے دہلی کے اہم علاقوں میں غیر قانونی ٹیپنگ کے لیے کیا۔ اس خبر کے انکشاف کے بعد یہ مشینیں ضائع کر دی گئیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ وزارت دفاع کی ایک انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ان تمام معاملات کی جانچ سی بی آئی جیسے محکمہ دفاع کے باہر کے کسی ادارے سے کرائی جائے۔ جنرل وی کےسنگھ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انہیں بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد تمام سوالوں کا جواب دیں گے۔ اس دوران وزارت دفاع نے اخبار کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے اسے فوج کے صدر دفتر سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ ’اس رپورٹ کا تعلق قومی سلامتی کے پہلوؤں سے ہے۔ حکومت اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی اور قدم اٹھائے گی۔ اطلاعات اور نشریات کے وزیر منیش تیواری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے فوج کی ایک انکوائری رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔ ’ایک اخبار میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا حکومت بغور جائزہ لے رہی ہے اور اگر کسی موجودہ یا سبکدوش افسر کو کسی بے ضابطگی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔