مقبول خبریں
اولڈہم کے مقامی ہوٹل ہال میں باغیچہ سجانے کی تقسیم انعامات کی تقریب
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
جموں کشمیر ریاستی اسمبلی میں بھارتی انٹیلی جنس کےعمل دخل پر وزارت دفاع الرٹ
سری نگر... سابق بھارتی فوجی سربراہ کی طرف سے جموں کشمیر ریاستی اسمبلی میں بھارتی انٹیلی جنس کے عمل دخل کے الزام پر وزارت دفاع نے کہا ہے کو اس بارے میں مکمل چھان بین کریں گے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے محکمہ دفاع کی ایک خفیہ رپورٹ شائع کی تھی کہ جس میں کہا گیا ہے کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی تھی اور اس کے لیے انہوں نے خفیہ سروس کے فنڈ کا غلط استعمال کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عمر عبدللہ کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے ملٹری کی خفیہ یونٹ سے سوا کروڑ روپے ان کی کابینہ کے ایک وزیر کو دیےگئے تھے۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل سنگھ نے اپنے جانشیں جنرل بکرم سنگھ کو بّری فوج کا سربراہ نہ بننے دینے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم کو فنڈز فراہم کیے تھے۔ اس تنظیم نے ایک دیگر این جی او کے ذریعے جنرل بکرم سنگھ کے خلاف کشمیر میں فرضی تصادم کے ایک کیس کے سلسلے میں مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنرل وی کے سنگھ نے فوج میں ایک خفیہ یونٹ تشکیل دی تھی جس نے کشمیر میں فون ٹیپ کرنے کے لیے مشینین خریدیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مشینوں کا استعمال ملٹری کی خفیہ یونٹ نے دہلی کے اہم علاقوں میں غیر قانونی ٹیپنگ کے لیے کیا۔ اس خبر کے انکشاف کے بعد یہ مشینیں ضائع کر دی گئیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ وزارت دفاع کی ایک انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ان تمام معاملات کی جانچ سی بی آئی جیسے محکمہ دفاع کے باہر کے کسی ادارے سے کرائی جائے۔ جنرل وی کےسنگھ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انہیں بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد تمام سوالوں کا جواب دیں گے۔ اس دوران وزارت دفاع نے اخبار کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے اسے فوج کے صدر دفتر سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ ’اس رپورٹ کا تعلق قومی سلامتی کے پہلوؤں سے ہے۔ حکومت اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی اور قدم اٹھائے گی۔ اطلاعات اور نشریات کے وزیر منیش تیواری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے فوج کی ایک انکوائری رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔ ’ایک اخبار میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا حکومت بغور جائزہ لے رہی ہے اور اگر کسی موجودہ یا سبکدوش افسر کو کسی بے ضابطگی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔