مقبول خبریں
ایسٹرن پویلین ہال اولڈہم میں آزادکشمیر میں قائم اسلام ویلفیئر ٹرسٹ کے سالانہ چیرٹی ڈنر کا انعقاد
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
لبریشن فرنٹ امان اللہ خان کا مشن ،کشمیر کی مکمل آزادی و خودمختاری تک جاری رکھے گی:صابر گل
بر منگھم:امان اللہ خان نے نہ صرف مقبول بٹ کا مشن احسن طریقے سے اگے بڑھایا بلکہ پچھلی سات دھائیوں سے مسئلہ کشمیر کی آبیاری کی اور ظلم و جبر کے خلاف فولادی دیوار تھے۔ لبریشن فرنٹ کشمیری امان اللہ خان کا مشن ،کشمیر کی مکمل آزادی و خودمختاری تک جاری و ساری رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہارمہمان خصوصی صابر گل صدر جے کے ایل ایف یوکے زون نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برمنگھم برانچ کے زیر اہتمام کشمیر ایورنس اینڈ فیملی ڈے پر شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام کی صدارت برمنگھم برانچ کے صدر چوہدری اشرف نے کی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جاوید اقبال نے سر انجام دیئے ۔ جبکہ دیگر مقررین جن میںلارڈ قربان حسین، کونسلر عنصر علی خان، نیشنل عوامی پارٹی کے صدر محمود کشمیری، لبریشن لیگ کے صدر ڈاکٹر مسفر، کے ایل او کے نجیب افسر،محاذ رائے شماری کے صدیق مرزاجے کے پی این پی کے صدر انعام الحق ،زبیر انصاری، اے این پی کے عالمگیر خان ، برٹش کشمیری کے شہزاد مغل، لبریشن فرنٹ کے پروفیسر عظمت اے خان، پروفیسر ظفر خان، یونس چوہدری،کونسلر محمود حسین، خان فاروق خان، ملک لطیف کے علاوہ دیگر شرکاء نے بھی خطاب کرتے ہوئے امان اللہ خان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شرکاء نے مزید کہا کہ امان اللہ خان نہ صرف جموں کشمیر بلکہ پوری دنیا میں پھیلے کشمیریوں کے مسلمہ لیڈر تھے جنہوں نے نامساعد حالات میں اپنی پوری زندگی سب کچھ قربان کرکے جموں کشمیر کی آزادی و خودمختاری کے لیے سرگرم ِعمل رہے۔ امان اللہ خان نے اپنے ابتدائی آزادی پسند ساتھیوں کے ساتھ جو عہد کیا تھا اس کی پاسداری زندگی کے ہر لمحہ میں کی۔ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کو قربان کر کے اپنا ہر پل تحریک کو دیا اور اس سلسلہ میں وہ دن رات آخری دم تک جے کے ایل ایف کے دفتر سے سرگرم عمل رہے۔ انکی قائدانہ صلاحیتں، نظریاتی سچائی اور سیاسی کردار ہی ہے کہ آج مخالفین آزادی بھی ان کی عظمت کو سلام پیش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر تحریک کے ابتدائی ساتھیوں میں ایواڈ بھی تقسیم کیے گئے اور برٹش بورن کشمیری نوجوانوں کی اگاہی کے لیے لٹریچر ، کشمیری کتب، کشمیر مصنوعات کے سٹالز بھی لگائے گئے اور کشمیر پر ایک پرزنٹیشن کا بھی اہتمام کیا گیا۔