مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شامی پناہ گزینوں کی یورپ آمد، غیر قانونی تارکین وطن کے لئے امید کی نئی کرن ..!!
برسلز... مصیبت اور پریشانی جہاں انسان کو مایوس اور غم زدہ کر دیتی ہے وہیں بعض اوقات خوشیوں کا موجب بھی بن جاتی ہے شام میں جوں جوں امن کے امکانات کم اور جنگ کے خطرات بڑھتے جاتے ہیں یورپی ممالک اپنے ہاں پناہ گزینوں کیلئے انتظامات بھی اسی شدو مد سے کر رہے ہیں.. تفصیلات کے مطابق اہم یورپی ملک فرانس اگر شام کے صدر بشارالاسد کے معاملے میں انتہائی سخت رویہ رکھتا ہے تو جنگ کی صورت میں اپنے ہاں پھنچنے والے پناہ گزینوں کو سنبھالنے کو بھی تیار ہے ..ایسی صورت میں یورپی ممالک میں پہلے سے موجود پناہ گزینوں کیلئے بھی بہتری کی امید پیدا ہو جاتی ہے ...غیر قانونی طور پرمقیم افراد قانونی پناہ گزینوں کی فیملیز سے روابط بڑھا لیتے ہیں جو بعد ازاں رشتہ داریوں میں بدلنے کا سبب بنتے ہیں کیونکہ قانونی پناہ گزین کو مطلقہ یورپی ملک میں کم و بیش وہاں کے نیشنل جتنے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور وہ جوان اولاد چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی اس کی جلد شادی کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں ...امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے امکانات مسلم فیملیز میں زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ترجیح مسلمان ہی ہوتے ہیں ..تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت تک 20لاکھ سے زائد شامی ملکی حالات سے بچنے کیلئے یورپی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ لیکن شامی مہاجرین کی مسلسل آمد سےممکنہ ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کیلئے یورپی ممالک تیار ہو رہے ہیں.. شامی مہاجرین قریبی ممالک باالخصوص یورپی خطے کارخ کر رہے ہیں۔ اکثریت ان ترقی یافتہ ممالک میں نئی زندگی کی امید کے ساتھ آ رہی ہے تاہم میزبان ملکوں کیلئے ضروریات زندگی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی سیکیورٹی اور کسی ممکنہ خوشگوار واقع سے نمٹنے کیلئے اقدامات بھی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ جب تک یورپی ممالک کو عالمی امداد سے حصّہ بقر جثہ حنین مل جاتا جنگ نہیں چھڑے گی، لیکن جنگ نہ بھی ہونے کی صورت میں کم از کم پانچ ملین شامی باشندے یورپی ممالک پناہ گزین ہو چکے ہوں گے...