مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
آزاد کشمیر مسلم لیگ(ن) کا انتشار برطانیہ تک ..!!
26دسمبر2010کو میاں محمد نواز شریف نے خود مظفر آباد جا کر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے قیام کا اعلان کیا تو کشمیریوں کی اکثریت نے اس وقت اسے نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا چونکہ روایتی طور پر1932میں قائم ہونیوالی مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ کی ذیلی جماعت تھی مختلف ادوار میں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ کا اشتراک حکومتوں کی تبدیلی اور ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ایک لمبے عرصے کی تاریخ تک محیط ہے مسلم کانفرنس کے دو بڑے سرداروں،سردار عبدالقیوم خان اور سردار سکندر حیات کے درمیان ہمیشہ اختیارات اور مفادات پر سرد جنگ جاری رہتی تھی لیکن مسلم لیگ کی ثالثی اور مقتدر حلقوں کی مداخلت پر ان دو بڑے سرداروں نے آزاد کشمیر کے خطے پر سب سے زیادہ حکمرانی کی اور باری باری صدور اور وزرائے اعظم بننے کی باریاں لیں1990.1991میں جب میاں محمد نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے تو اسلام آباد کشمیر ہاؤس میں سردار عبدالقیوم خان کے استقبالیے میں انہوں نے شرکت کے موقع پر سردار عبدالقیوم خان کی تعریف اور تعظیم میں کہا کہ ان کی وہ بہت عزت کرتے ہیں او رسردار عبدالقیوم خان کی صحبت میں گزری ہوئی چند گھڑیاں ان کیلئے قیمتی ہوتی ہیں12اکتوبر1999کو جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کیا تو مقتدر حلقوں نے مسلم کانفرنس کو جنرل پرویز کے قریب کر دیا جنرل پرویز مشرف کے اقتدار اور طرز حکمرانی سے متاثر ہو کر سردار عبدالقیوم خان جوسپریم ہیڈ مسلم کانفرنس تھے،پاکستان میں ملٹری ڈیمو کریسی کی حمایت کا نعرہ لگا دیا سردار سکندر خان کو اگرچہ اس پر اعتراض اور تحفظات تھے لیکن انہوں نے کوئی علم بغاوت بلند نہیں کیا بلکہ2001سے2006تک بدستور وزیر اعظم آزاد کشمیر رہے سردار سکندر حیات خان کے دور ہی میں منگلا ڈیم اپ ریزنگ منصوبے پر دستخط ہوئے سردار عبدالقیوم خان2006میں اپنے بیٹے سردار عتیق احمد خان کو وزیر اعظم بنوا کر اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ گئے تو سردار عتیق احمد خان نے ملٹری ڈیمو کریسی کا نعرہ زیادہ زور و شور سے لگایا یاد رہے اس دوران محمد نواز شریف سے مسلم کانفرنس کا باقاعدہ کوئی رابطہ نہیں ہوا بلکہ میاں برادران کی لندن آمد کے دوران بھی سردار عبدالقیوم،سردار سکندر حیات خان اور سردار عتیق احمد خان میں سے کسی نے بھی کوئی راہ رسم تک نہ نبھائی،سردار عتیق احمد خان کی مسلم کانفرنس کے اندر سردار سکندر حیات خان کے حمایتوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر بغاوت کی تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں سردار محمد یعقوب کو وزیر اعظم بنوا دیا سردار یعقوب کے خلاف بغاوت ہوئی تو راجہ فاروق حیدر وزیر اعظم بنے پھر 10ماہ میں راجہ فاروق حیدر کی حکومت کو چلتا کر دیا گیا اور سردار عتیق احمد وزیر اعظم بن گئے،مسلم کانفرنس کا باہم اختلاف بالاخر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے قیام پر ختم ہوا سردار عتیق احمد خان نے بہت کوشش کی کہ وہ میاں برادران سے تعلقات دوبارہ استوار کر سکیں لیکن ملٹری ڈیمو کریسی کا نعرہ شاید میاں صاحب کے لئے نا قابل معافی جرم تھا جب آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس سے پہلے مسلم لیگ بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک دھڑا آزاد کشمیر میں مسلم لیگ کے قیام کے حق جبکہ دوسرا اس کے مخالف تھا لیکن راجہ ظفر الحق کی مضبوط لابی اور پارٹی میں قد کاٹھ نے کام دکھا دیا اور مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کا قیام عمل میں لانے کے بعد اس کا تاج راجہ فاروق حیدر کے سر پر سجا دیا گیا اس سے پہلے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد کشمیر میں مسلم لیگ بنانے کی لابی بھی کرچکے تھے لیکن وہ ان کے لئے کارگر ثابت نہ ہوئی تھی آزاد کشمیر مسلم لیگ مسلم لیگ کی اس وقت قیادت جہاں راجہ فاروق حیدر خود کر رہے ہیں وہاں چوہدری طارق فاروق سینئر نائب صدر اور شاہ غلام قادر بطور سیکرٹری جنرل آزاد کشمیر مسلم لیگ کے کرتا دھرتا ہیں۔ شاہ غلام قادر سابق سپیکر ہیں اور کئی وزارتوں پر فائز رہ چکے ہیں ان کا کوئی بڑا قبیلہ یا برادری نہیں ہے ان کا پاور بیس اسٹیبلشمنٹ سے جوڑا جاتا ہے وہ سیاسی اور علمی طور پر بڑے قد کاٹھ کے رہنما ہیں راجہ فاروق حیدر بقول میاں محمد نواز شریف ایک سچے،با اصول ،کھرے اور بہادر انسان ہیں ان کی طاقت یا پاور آزاد کشمیر کا سب سے بڑا راجپوت قبیلہ ہے بطور وزیر اعظم وہ منگلا ڈیم کی رائلٹی،آزاد کشمیر کے حقوق وفاقی وزیر امور کشمیر کے کردار کشمیر کونسل کے ادارے کے بارے میں سخت ترین موقف اختیار کر چکے ہیں رواں سال وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جب مظفر آباد میں نیلم جہلم پروجیکٹ کی اپ ڈیٹ لینے گئے تو واپڈا کے چیئرمین کی بریفنگ کے دوران راجہ فاروق حیدر وزیر اعظم کی موجودگی میں بول پڑے کہ واپڈا کا چیئرمین غلط بیانی کر رہا ہے جس پر وزیر اعظم کو خود راجہ فاروق حیدر کو خاموش رہنے کو کہنا پڑا راجہ فاروق حیدر پر آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر سے باہر برطانیہ و یورپ تک’’راجہ لیگ‘‘ کا سربراہ ہونے کا لیبل لگایا جاتا ہے دوسرے قبیلے اسی احساس میں پارٹی کے اندر قدم جمانے کی تگ دو کرتے نظر آتے ہیں،باو ثوق ذرائع بتاتے ہیں کہ راجہ فاروق حیدر کو اس وقت ایک طرف جہاں شاہ غلام قادر سے مستقبل میں خطرات لاحق ہیں وہاں پارٹی کے نہایت سنجیدہ اور زیرک اپنے ہی ساتھی چوہدری طارق فاروق سے بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے،چوہدری طارق فاروق کو جہاں اپنے قبیلے جاٹوں کی حمایت حاصل ہے وہاں سابق وزیر ڈاکٹر نجیب نقی کی صورت میں تیسرے بڑے قبیلے سدھنوں کی بھی حمایت حاصل ہے اگرچہ چوہدری طارق فاروق نے اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران اسکی کھل کر نفی کی ہے اور برملا چوہدری طارق فاروق نے فاروق حیدر کو ہی اپنا لیڈر گردانا ہے راجہ فاروق یا راجہ فاروق حیدر دونوں کی اس وقت لابی پاکستان مسلم لیگ ن میں نہ صرف کمزور ہے بلکہ رابطہ بھی محدود ہے،آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کیلئے راجہ فاروق حیدر کی قیادت میں پارلیمانی پارٹی نے اصولی طور پر فیصلہ کر کے اس کا اعلان بھی کر دیا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے پولیٹکل سیکرٹری آصف سعید کرمانی کی معاونت سے دو سینئر صحافیوں مشتاق منہاس اور افضل بٹ نے میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اعتماد میں لیا کہ آزاد کشمیر میں وزیر اعظم کی تبدیلی دراصل ایجنسیوں کا کھیل ہے جس پر وزیر اعظم نے تحریک عدم اعتماد میں حصہ نہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا سنیٹر پرویز رشید نے اس کا اعلان میڈیا کے ذریعے کر دیا جس پر راجہ فاروق حیدر نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کا وقت مانگا لیکن نا گزیر وجوہات کی بنا پر راجہ فاروق حیدر اور انکی پارٹی کے پارلیمانی اراکین سے ملاقات نہ ہو سکی راجہ فاروق حیدر تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی وجوہات کے بارے میں آزاد کشمیر سے باہر مسلم لیگیوں کو آج تک اعتماد میں نہیں لے سکے ،راجہ فاروق حیدر کا نہ ہی کارکنوں سے کوئی باقاعدہ رابطہ ہے اور نہ ہی وہ اکثر اپنے سینئر عہدیداروں کا فون سنتے ہیں اور نہ ہی کارکنوں اور بلکہ اپنے قبیلے کے افراد کی داد رسی کرتے ہیں برطانیہ میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بظاہر صدر زبیر اقبال کیانی ہیں لیکن انکی مشاورت کے بغیر عہدوں کے نوٹیفکیشن جاری ہو رہے ہیں جس سے عہدوں کی تقسیم پر برطانیہ میں لیگی کارکنوں میں انتشار پایا جاتا ہے تمام عہدیدار پروٹو کول مانتے ہیں کہا جا رہا ہے کہ مرکز سے ذوالفقار ملک اورمحمد ارشد برطانیہ و یورپ27اگست کو اولڈہم میں چوہدری طارق فاروق کے اعزاز میں منعقدہ جلسے سے شروع ہوئے اور22ستمبر لوٹن کے جلسے تک جاری رہے یاد رہے کہ برطانیہ میں زبیر گل پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر ہیں جبکہ آزاد کشمیر مسلم لیگ ن برطانیہ کی باڈی الگ ہے جو کارکن آزاد کشمیر مسلم لیگ ن کی یہاں کی قیادت کو پسند نہیں کرتے وہ زبیر گل کی تنظیم میں عہدے لے چکے ہیں برادریوں اور قبیلوں کی لڑائیاں بھی مسلم کانفرنس کے دور کی ہوتی ہیں ایک دوسرے کوتسلیم نہ کرنا اور برادری اور قبیلے کی بنیاد پر نفرت کرنا پتھر کے زمانے کی یاد دلاتا ہے جس پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ (شیراز خان، لوٹن)