مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اتر پردیش کے ہندو مسلم فسادات کی سازش میں ملوث تین بھارتی سیاست دان گرفتار
نئی دہلی ... بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین حالیہ خونریز فسادات کے سلسلے میں ریاستی پارلیمان کے تین اپوزیشن ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان فسادات میں 47 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بدامنی اور لوٹ مار کے واقعات کے نتیجے میں بے گھر ہو جانے والے شہریوں کی تعداد بھی 40 ہزار سے زائد رہی تھی۔ یہ مذہبی بدامنی بھارت میں حالیہ برسوں میں نظر آنے والے شدید ترین فرقہ وارانہ تشدد کا رنگ اختیار کر گئی تھی۔ بھارتی ٹیلی وژن ادارے NDTV نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے تینوں منتخب سیاسی نمائندوں نے اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے نہ تو کسی کو تشدد پر اکسایا اور نہ ہی وہ کسی غلط اقدام کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان تینوں ارکان پارلیمان کا تعلق ریاستی سطح پر اپوزیشن کی جماعتوں سے ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق ان ہندو مسلم فسادات کے سلسلے میں اتر پردیش میں مجموعی طور پر 16 ایسے سیاستدانوں پر تشدد کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے تھا۔ ان میں سے ہر ملزم کی گرفتاری کے جو وارنٹ جاری کیے گئے تھے، وہ ناقابل ضمانت تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ گرفتار کیے گئے ریاستی پارلیمان کے ارکان کا تعلق قومی سطح کی ہندو قوم پسند اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نامی علاقائی جماعت سے ہے۔ اتر پردیش کے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں پولیس کے ایک سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان ہندو مسلم فسادات کے سلسلے میں ریاستی پارلیمان کے جن تین منتخب ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں سے ایک کو جمعے کو رات گئے اور باقی دو کو ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے ارکان پارلیمان کی گرفتاریاں سیاسی وجوہات کی بنا پر عمل میں آئی ہیں۔