مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ترکی سےوطن واپسی پر نواز شریف کا قوم سے خطاب نوجوان نسل کیلئے 6 سکیموں کا اعلان
اسلام آباد... وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی نوجوان نسل کیلئے بیس بلین روپے کے چھ فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہےکہ ان فلاحی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں میں خود روزگاری کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ ان کا کنہا تھا کہ منشور اور انتخابی مہم کے دوران کئے وعدوں کی تکمیل کا آج پہلا قدم ہے، انشااللہ وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان اقدامات کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے گا بلکہ زیادہ سے زیادہ وسائل کا رخ اس مقدس مشن کی طرف موڑا جاتا رہے گا۔ میرے نزدیک یہ ایک مقدس مشن ہے۔ آپ کی یہ حکومت ، اس امر کا پختہ عزم رکھتی ہے کہ پاکستان جلد سے جلد اپنی مشکلات پر قابو پائے۔ پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط ہو جائے کہ ہمیں قرضوں اور بیرونی امداد کی حاجت نہ رہے۔ اربوں روپے کی وہ رقم بچائی جا سکے جو خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں کی نذر ہو رہی ہے ۔ اس بچائی گئی رقم کو عوام کی فلاح وبہبود ، نوجوانوں کے لیے تعلیم و تربیت اور روزگار کے نئے مواقع کے لیے وقف کر دیا جائے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا ہمیں ہر سال 500 ارب روپے تباہ حال حکومتی اداروں کا خسارہ پورا کرنے کے لیے دینا پڑتے ہیں۔ یہ 500 ارب روپے حکومت کو دستیاب ہوں تو معاشرے کے پسماندہ طبقات اور نوجوانوں کے شانداز مستقبل کے لیے ایسے تاریخ ساز اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو عظیم سماجی اور معاشی انقلاب لے آئیں۔ وسائل کی کمی اور بے پناہ معاشی مشکلات کے باوجود ہم اپنے منشور اور انتخابی وعدوں کے مطابق ایسے پروگراموں کا آغاز کر رہے ہیں جو مالی طور پر کمزور طبقات اور نوجوانوں کے لیے امکانات کے نئے دروازے کھولیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا حکومت نے فوری طور پرچھ پروگرام شروع کر نے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پہلی سکیم بلا سود قرضوں کی ہے جو کمزور مالی طبقات کے افراد کے لیے مخصوص ہو گی۔ اس سکیم کے لیے موجودہ مالی سال میں ساڑھے تین ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس سے اڑھائی لاکھ افراد مستفید ہو سکیں گے۔ان قرضوں پر کوئی سود نہیں لیا جائے گا۔ دوسری نوجوانوں کی ہنر مندی سکیم ہے جس کا مقصد بے روز گار نوجوانوں کو ایسے ہنر اور فنون کی تربیت دینا ہے جن کے ذریعے وہ باعزت طریقے سے روزی کما سکیں۔ پیچس سال تک کی عمر کے ایسے تمام نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے جنہوں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ تیسری سکیم پسماندہ علاقوں کے طلبہ و طالبات کے لیے حکومت کی طرف سے فیس کی ادائیگی ہے۔ حکومت نے طے کیا ہے کہ کوئی باصلاحیت نوجوان صرف اس لیے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے کہ اس کے والدین فیس کی ادائیگی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ چوتھی سکیم چھوٹے کاروباری قرضوں کی ہے۔ یہ سکیم بے روزگار بالخصوص پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے مخصوص ہوگی جو اپنا کاروبار شروع کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ جس کے تحت پانچ لاکھ سے بیس لاکھ روپے کے قرضے ہنر مند افراد کو ملیں گے جو اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس قرضے پر مارک اپ کی رعایتی شرح صرف آٹھ فیصد ہوگی۔ باقی حکومت خود ادا کرے گی۔ ابتدائی طور پر یہ قرضے نیشنل بینک اور فرسٹ ویمن بینک کے ذریعے دیے جائیں گ۔ اس سکیم کے لیے پانچ ارب روپے رکھے مختص کیے گئے ہیں۔ پانچویں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تربیتی سکیم ہے۔ اس کے تحت منظور شدہ تعلیمی اداروں سے سولہ سالہ تعلیمی ڈگری کے حامل نوجوانوں کو عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ انھیں اندرون یا بیرون ملک روز گار کی تلاش میں آسانی ہو۔ چھٹی مجوزہ سکیم کے تحت ملک بھر کے ہونہار ایک لاکھ طلبہ وطالبات کو لیپ ٹاپس فراہم کیے جائیں گے۔ اس سکیم کے لیے چار ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔