مقبول خبریں
ایسٹرن پویلین ہال اولڈہم میں آزادکشمیر میں قائم اسلام ویلفیئر ٹرسٹ کے سالانہ چیرٹی ڈنر کا انعقاد
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان نے اہم طالبان رہنما ملا برادر کو رہا کردیا، افغان حکام کا خیر مقدم
اسلام آباد ... دفتر خارجہ پاکستان نے طالبان رہنما ملا برادر کی رہائی کی تصدیق کر تے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رہنما کو افغان مصالحتی عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے رہا کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ترکی کے دورے میں وزیر اعظم پاکستان کے نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان رہنما ملا عمر کے نائب ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ افغان حکام نے بھی طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ حکام نے ملا عبدالغنی برادر کو ’امن کا سفیر‘ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کے سینئر مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہووے کہا تھا کہ ملا برادر کو پاکستان میں رہا کیا جائے گا۔ جبکہ افغان حکومت کا کہنا تھا کہ ملا برادر کو سعودی عرب یا عرب امارات منتقل کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ ملا برادر کی رہائی کا اعلان آل جماعتی کانفرنس میں فیصلہ کے بعد ہوا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔اس سے پہلے پاکستان نے سات طالبان کو رہا کیا تھا لیکن انکی ہائی کمان کا کہنا تھا کہ ان میں کوئی بھی بڑا لیڈر شامل نہیں ہے۔ فروری سال دو ہزار دس میں پاکستان کی فوج نے ملا برادر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی جبکہ اس وقت وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ طالبان رہنما کو دس دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ملا عمر اور بلا برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور انیس سو چورانوے میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے تھے۔ ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔ ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے راہنماوں کی کونسل اور تنظیم مالی امور چلاتے تھے۔