مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان نے اہم طالبان رہنما ملا برادر کو رہا کردیا، افغان حکام کا خیر مقدم
اسلام آباد ... دفتر خارجہ پاکستان نے طالبان رہنما ملا برادر کی رہائی کی تصدیق کر تے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رہنما کو افغان مصالحتی عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے رہا کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ترکی کے دورے میں وزیر اعظم پاکستان کے نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان رہنما ملا عمر کے نائب ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ افغان حکام نے بھی طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ حکام نے ملا عبدالغنی برادر کو ’امن کا سفیر‘ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کے سینئر مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہووے کہا تھا کہ ملا برادر کو پاکستان میں رہا کیا جائے گا۔ جبکہ افغان حکومت کا کہنا تھا کہ ملا برادر کو سعودی عرب یا عرب امارات منتقل کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ ملا برادر کی رہائی کا اعلان آل جماعتی کانفرنس میں فیصلہ کے بعد ہوا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔اس سے پہلے پاکستان نے سات طالبان کو رہا کیا تھا لیکن انکی ہائی کمان کا کہنا تھا کہ ان میں کوئی بھی بڑا لیڈر شامل نہیں ہے۔ فروری سال دو ہزار دس میں پاکستان کی فوج نے ملا برادر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی جبکہ اس وقت وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ طالبان رہنما کو دس دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ملا عمر اور بلا برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور انیس سو چورانوے میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے تھے۔ ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔ ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے راہنماوں کی کونسل اور تنظیم مالی امور چلاتے تھے۔