مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کراچی میں رینجرز کے نئےاضافی اختیارات پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل
اسلام آباد... کراچی میں بڑھتی ہوئی بد امنی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت رینجرز مشتبہ افراد کو ایک سے تین ماہ تک زیر حراست رکھ سکیں گے۔ قانون میں نیم فوجی دستے ضرورت پڑنے پر انتباہ کے بعد شدت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کو گولی چلانے یا اس کا حکم جاری کرنے کے بھی مجاز ہوں گے۔ ایم کیو ایم جو کراچی کی ایک بااثر سیاسی جماعت ہے اور حال ہی میں ملک کے اقتصادی مرکز میں شروع ہونے والے آپریشن کے طریقہ کار پر پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگا چکی ہے کہ اس میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے مجوزہ قانون کی وجہ سے ماورائے عدالت قتل اور دیگر انسانی حقوق کی خلاورزیوں سے متعلق خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہیومن رائٹس والوں کے اپنے مسائل ہیں۔ اگر آپ اس چکر میں پڑے رہے تو ٹھیک ہے وہ ہوتا رہے گا جو پچھلے 25 سال سے چل رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ، انڈیا اور دیگر ممالک نے بھی ایسے قوانین بنائے۔ اگر امن و امان اور معیشت ختم ہوجائے تو یہ سب تو دھری کی دھری رہ جائے گی۔