مقبول خبریں
اولڈہم ہوپ ووڈ ہاؤس ہیلتھ سنٹر میں خواتین کو آگاہی دینے کیلئے لیڈی ہیلتھ ڈے کا اہتمام
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں اظہار یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کراچی میں رینجرز کے نئےاضافی اختیارات پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل
اسلام آباد... کراچی میں بڑھتی ہوئی بد امنی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت رینجرز مشتبہ افراد کو ایک سے تین ماہ تک زیر حراست رکھ سکیں گے۔ قانون میں نیم فوجی دستے ضرورت پڑنے پر انتباہ کے بعد شدت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کو گولی چلانے یا اس کا حکم جاری کرنے کے بھی مجاز ہوں گے۔ ایم کیو ایم جو کراچی کی ایک بااثر سیاسی جماعت ہے اور حال ہی میں ملک کے اقتصادی مرکز میں شروع ہونے والے آپریشن کے طریقہ کار پر پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگا چکی ہے کہ اس میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے مجوزہ قانون کی وجہ سے ماورائے عدالت قتل اور دیگر انسانی حقوق کی خلاورزیوں سے متعلق خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہیومن رائٹس والوں کے اپنے مسائل ہیں۔ اگر آپ اس چکر میں پڑے رہے تو ٹھیک ہے وہ ہوتا رہے گا جو پچھلے 25 سال سے چل رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ، انڈیا اور دیگر ممالک نے بھی ایسے قوانین بنائے۔ اگر امن و امان اور معیشت ختم ہوجائے تو یہ سب تو دھری کی دھری رہ جائے گی۔