مقبول خبریں
lets talk گروپ کے زیر اہتمام کمیونٹی کو ذہنی امراض کی آگاہی کے لیے ورکشاپ کا انعقاد
صادق خان رسوائی کا باعث اور برطانیہ کے دارالحکومت لندن کو تباہ کررہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کراچی میں رینجرز کے نئےاضافی اختیارات پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل
اسلام آباد... کراچی میں بڑھتی ہوئی بد امنی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت رینجرز مشتبہ افراد کو ایک سے تین ماہ تک زیر حراست رکھ سکیں گے۔ قانون میں نیم فوجی دستے ضرورت پڑنے پر انتباہ کے بعد شدت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کو گولی چلانے یا اس کا حکم جاری کرنے کے بھی مجاز ہوں گے۔ ایم کیو ایم جو کراچی کی ایک بااثر سیاسی جماعت ہے اور حال ہی میں ملک کے اقتصادی مرکز میں شروع ہونے والے آپریشن کے طریقہ کار پر پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگا چکی ہے کہ اس میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے مجوزہ قانون کی وجہ سے ماورائے عدالت قتل اور دیگر انسانی حقوق کی خلاورزیوں سے متعلق خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہیومن رائٹس والوں کے اپنے مسائل ہیں۔ اگر آپ اس چکر میں پڑے رہے تو ٹھیک ہے وہ ہوتا رہے گا جو پچھلے 25 سال سے چل رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ، انڈیا اور دیگر ممالک نے بھی ایسے قوانین بنائے۔ اگر امن و امان اور معیشت ختم ہوجائے تو یہ سب تو دھری کی دھری رہ جائے گی۔