مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
محنت کش کے بیٹے پاکستانی نژاد برطانوی صادق خان نے میئر اآف لندن کا معرکہ جیت لیا
لندن: پاکستانی نژاد برطانوی صادق خان نے لندن کے میئرشپ انتخابات میں واضح برتری حاصل کرکے اپنے مخالف امیدوار زیک گولڈ سمتھ کو شکست دیدی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لندن کی میئرشپ کیلئے کل بارہ امیدوار میدان میں اترے تاہم اصل مقابلہ لیبر پارٹی کے صادق خان اور کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ کے درمیان تھا۔ دوسری ترجیح کی حتمی گنتی میں زیک گولڈ سمتھ نے تینتالیس فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ صادق خان ستاون فیصد ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ۔میڈیا کے مطابق زیک گولڈ سمتھ نے صادق خان کے خلاف انتہاپسندی پر مبنی نفرت انگیز مہم چلائی جس کا نقصان ہونے کے بجائے الٹا صادق خان کو فائدہ ہوگیا۔اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں کی جانب سے لندن کی میئرشپ جیتنے پر صادق خان کو مبارکبادیں دینے کا سلسلہ شروع ہے۔صادق خان 1970ء میں لندن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد لندن میں بس ڈرائیور تھے۔ صادق خان زمانہ طالبعلمی میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے لیکن ان کے ایک استاد نے ان میں چھپی صلاحیتوں کو دیکھ کر انھیں وکیل بننے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کیلئے بہت کام کیا۔ 2005ء میں اُنہوں نے وکالت کا پیشہ ترک کیا اور ٹُوٹِنگ سے رکنِ پارلیمان بن گئے۔ صادق خان پندرہ سال کی عمر میں لیبر پارٹی میں شامل ہوئے اور 1994ء میں وانڈز ورتھ سے کونسلر منتخب ہوئے۔ یہ عہدہ 2006ء تک اُن کے پاس رہا۔ سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے 2008ء میں اُنہیں کمیونٹیز کا وزیر بنا دیا جبکہ بعد ازاں وہ ٹرانسپورٹ کے وزیر کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے۔ وہ برطانوی کابینہ کے اجلاسوں میں شریک ہونے والے پہلے مسلمان وزیر تھے۔