مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
محنت کش کے بیٹے پاکستانی نژاد برطانوی صادق خان نے میئر اآف لندن کا معرکہ جیت لیا
لندن: پاکستانی نژاد برطانوی صادق خان نے لندن کے میئرشپ انتخابات میں واضح برتری حاصل کرکے اپنے مخالف امیدوار زیک گولڈ سمتھ کو شکست دیدی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لندن کی میئرشپ کیلئے کل بارہ امیدوار میدان میں اترے تاہم اصل مقابلہ لیبر پارٹی کے صادق خان اور کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ کے درمیان تھا۔ دوسری ترجیح کی حتمی گنتی میں زیک گولڈ سمتھ نے تینتالیس فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ صادق خان ستاون فیصد ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ۔میڈیا کے مطابق زیک گولڈ سمتھ نے صادق خان کے خلاف انتہاپسندی پر مبنی نفرت انگیز مہم چلائی جس کا نقصان ہونے کے بجائے الٹا صادق خان کو فائدہ ہوگیا۔اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں کی جانب سے لندن کی میئرشپ جیتنے پر صادق خان کو مبارکبادیں دینے کا سلسلہ شروع ہے۔صادق خان 1970ء میں لندن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد لندن میں بس ڈرائیور تھے۔ صادق خان زمانہ طالبعلمی میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے لیکن ان کے ایک استاد نے ان میں چھپی صلاحیتوں کو دیکھ کر انھیں وکیل بننے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کیلئے بہت کام کیا۔ 2005ء میں اُنہوں نے وکالت کا پیشہ ترک کیا اور ٹُوٹِنگ سے رکنِ پارلیمان بن گئے۔ صادق خان پندرہ سال کی عمر میں لیبر پارٹی میں شامل ہوئے اور 1994ء میں وانڈز ورتھ سے کونسلر منتخب ہوئے۔ یہ عہدہ 2006ء تک اُن کے پاس رہا۔ سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے 2008ء میں اُنہیں کمیونٹیز کا وزیر بنا دیا جبکہ بعد ازاں وہ ٹرانسپورٹ کے وزیر کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے۔ وہ برطانوی کابینہ کے اجلاسوں میں شریک ہونے والے پہلے مسلمان وزیر تھے۔