مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی ماہر قانون بیرسٹر امجد ملک متفقہ طور پر اوور سیز پاکستانی فاونڈیشن کے چیئرمین منتخب
لندن:وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی ہدایت پر اوور سیز پاکستانی فاونڈیشن کا دس سال پرانے بورڈ آف گورنرز کو تحلیل کر کے نئے بورڈ آف گورنرزکی تعیناتیوں کے بعد نو تشکیل شدہ بورڈ آف گورنرز نے پہلے اجلاس میں متفقہ طور پر برطانوی ماہر قانون بیرسٹر امجد ملک کو اوور سیز پاکستانی فاونڈیشن کا چیئرمین منتخب کر لیا۔بیرسٹر امجد ملک تین سال کے لئے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے۔نو تشکیل شدہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں بورڈ آف گونرز کے اراکین وفاقی وزیر نجکاری محمد زبیر،،وفاقی سیکرٹری خارجہ،سیکرٹری خزانہ،سیکرٹری صنعت و تجارت،سیکرٹری اوور سیز،ایم ڈی او پی ایف کے علاوہ دیگر اراکین دبئی سے نورالحسن تنویر،امریکہ سے کیپٹن خالد ثقلین،ماسکو سے جہانگیر منہاس،خیبر پختونخواہ سے صاحبزادہ سعید احمد،سندھ سے نثار احمد صدیقی نے شرکت کی۔نو منتخب چئیرمین بئیرسٹر امجد ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ تیرہ بلین ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر بھجوا رہے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری ،،پاکستان کا بیرون ملک امیج بہتر بنانے اور ملکی ترقی کے لئے قائل کیا جائے۔دوسری جانب وکلاء رہنما شفقت محمود چوہان اور ایسویسی ایشن آف پاکستانی لائرز برطانیہ پنجاب چیپٹر کے صدر یونس نول نے بئیرسٹر امجد ملک کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔