مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی ماہر قانون بیرسٹر امجد ملک متفقہ طور پر اوور سیز پاکستانی فاونڈیشن کے چیئرمین منتخب
لندن:وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی ہدایت پر اوور سیز پاکستانی فاونڈیشن کا دس سال پرانے بورڈ آف گورنرز کو تحلیل کر کے نئے بورڈ آف گورنرزکی تعیناتیوں کے بعد نو تشکیل شدہ بورڈ آف گورنرز نے پہلے اجلاس میں متفقہ طور پر برطانوی ماہر قانون بیرسٹر امجد ملک کو اوور سیز پاکستانی فاونڈیشن کا چیئرمین منتخب کر لیا۔بیرسٹر امجد ملک تین سال کے لئے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے۔نو تشکیل شدہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں بورڈ آف گونرز کے اراکین وفاقی وزیر نجکاری محمد زبیر،،وفاقی سیکرٹری خارجہ،سیکرٹری خزانہ،سیکرٹری صنعت و تجارت،سیکرٹری اوور سیز،ایم ڈی او پی ایف کے علاوہ دیگر اراکین دبئی سے نورالحسن تنویر،امریکہ سے کیپٹن خالد ثقلین،ماسکو سے جہانگیر منہاس،خیبر پختونخواہ سے صاحبزادہ سعید احمد،سندھ سے نثار احمد صدیقی نے شرکت کی۔نو منتخب چئیرمین بئیرسٹر امجد ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ تیرہ بلین ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر بھجوا رہے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری ،،پاکستان کا بیرون ملک امیج بہتر بنانے اور ملکی ترقی کے لئے قائل کیا جائے۔دوسری جانب وکلاء رہنما شفقت محمود چوہان اور ایسویسی ایشن آف پاکستانی لائرز برطانیہ پنجاب چیپٹر کے صدر یونس نول نے بئیرسٹر امجد ملک کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔