مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
لیبر پارٹی نے لندن کے سابق میئر کین لِوینگسٹن کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا
لندن :برطانیہ کی لیبر پارٹی نے لندن کے سابق میئر کین لِوینگسٹن کو ایک ممبر پارلیمان کی طرف سے ادا کیے گئے مبینہ یہودیوں کے مخالف کلمات کا دفاع کرنے پر لیبر پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔لندن کے سابق میئر کے خلاف لیبر پارٹی کو بدنام کرنے کے الزام میں تحقیقات کی جائیں گی۔لیبر ایم پی جان مان جنھوں نے بی بی سی سٹوڈیو کے سامنے سابق میئر پر ’نازیوں کے حمایتی‘ ہونے کا الزام لگایا تھا ان کو بھی سرزنش کا سامنا ہے۔لیبر پارٹی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے چیف وہپ نے جان مان کے رویے پر بات کرنے کے لیے انھیں بلایا ہے۔اس سے قبل برطانیہ کی لیبر پارٹی کے لندن کے میئر کے امیدوار صادق خان نے بھی کہا تھا کہ کین لِوینگسٹن کو ان کے بیان پر لیبر پارٹی سے نکال دینا چاہیے۔لندن کے میئر کے امیدوار اور کئی دیگر لیبر پارٹی کے ممبر پارلیمان نے کین لوِینگسٹن کے پارٹی سے نکالے جانے کی حمایت کی ہے۔تاہم لوِینگسٹن اپنے بیان پر قائم ہیں اور کہتے ہیں کہ ایم پی ناز شاہ یہود دشمن نہیں ہیں۔انھوں نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کو یہودی دشمنی سے تعبیر کرنے کے بارے میں خبردار کیا۔لیبر ایم پی جان مان نے سابق میئر پر ’نازیوں کے حمایتی‘ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ناز شاہ کو ایم پی بننے سے پہلے فیس بک پر ایک بیان جاری کرنے کی وجہ سے لیبر پارٹی سے معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری جاری ہے۔ ناز شاہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو امریکہ منتقل کر دینا چاہیے۔انھوں نے اپنے بیان پر معافی مانگی ہے۔ لیکن اس کے بعد لیبر پارٹی کے سینیئر اراکین میں ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ پارٹی اپنے اندر بڑھتے ہوئے یہودی مخالف جذبات کو روکنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر رہی۔