مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لیبر پارٹی نے لندن کے سابق میئر کین لِوینگسٹن کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا
لندن :برطانیہ کی لیبر پارٹی نے لندن کے سابق میئر کین لِوینگسٹن کو ایک ممبر پارلیمان کی طرف سے ادا کیے گئے مبینہ یہودیوں کے مخالف کلمات کا دفاع کرنے پر لیبر پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔لندن کے سابق میئر کے خلاف لیبر پارٹی کو بدنام کرنے کے الزام میں تحقیقات کی جائیں گی۔لیبر ایم پی جان مان جنھوں نے بی بی سی سٹوڈیو کے سامنے سابق میئر پر ’نازیوں کے حمایتی‘ ہونے کا الزام لگایا تھا ان کو بھی سرزنش کا سامنا ہے۔لیبر پارٹی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے چیف وہپ نے جان مان کے رویے پر بات کرنے کے لیے انھیں بلایا ہے۔اس سے قبل برطانیہ کی لیبر پارٹی کے لندن کے میئر کے امیدوار صادق خان نے بھی کہا تھا کہ کین لِوینگسٹن کو ان کے بیان پر لیبر پارٹی سے نکال دینا چاہیے۔لندن کے میئر کے امیدوار اور کئی دیگر لیبر پارٹی کے ممبر پارلیمان نے کین لوِینگسٹن کے پارٹی سے نکالے جانے کی حمایت کی ہے۔تاہم لوِینگسٹن اپنے بیان پر قائم ہیں اور کہتے ہیں کہ ایم پی ناز شاہ یہود دشمن نہیں ہیں۔انھوں نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کو یہودی دشمنی سے تعبیر کرنے کے بارے میں خبردار کیا۔لیبر ایم پی جان مان نے سابق میئر پر ’نازیوں کے حمایتی‘ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ناز شاہ کو ایم پی بننے سے پہلے فیس بک پر ایک بیان جاری کرنے کی وجہ سے لیبر پارٹی سے معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری جاری ہے۔ ناز شاہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو امریکہ منتقل کر دینا چاہیے۔انھوں نے اپنے بیان پر معافی مانگی ہے۔ لیکن اس کے بعد لیبر پارٹی کے سینیئر اراکین میں ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ پارٹی اپنے اندر بڑھتے ہوئے یہودی مخالف جذبات کو روکنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر رہی۔