مقبول خبریں
الیکشن 2019 کیلئے کنگزوے وارڈ راچڈیل سے لیبر پارٹی کی مس ایلس رائٹ نامزد
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایٹمی ہتھیار بنائے نہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، ایرانی صدر کا امریکی ٹی وی کو پہلاانٹرویو
تہران... ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اسرائیل مشق وسطی میں بے انصافی کا مرتکب ہے ، ایران عوامی رائے کی طاقت پر یقین رکھتا ہے اور ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم پر قائم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے معروف امریکی ٹی وی این بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا .. انکے اس انٹرویو میں ظاہر کئے گئے خیالات کو امریکہ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ہونے والی حالیہ خط و کتابت کی پیش رفت قرار دے رہا ہے امریکی میڈیا ان کی اس بات کو نمایاں اہمیت دے رہا ہے جس میں ایرانی صدر نے کہا کہ " ان کا ملک کبھی بھی ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کرے گا"۔ صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ایران نے کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں اور وہ کسی بھی حالت میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایران اس بات پر مصر رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے لیکن امریکہ اور اس کے بعض اتحادی اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے اس ملک کے خلاف مختلف تعزیرات عائد کرتے رہے ہیں۔ اس عام تاثر کو زائل کرتے ہوئے کہ ایران میں طاقت کا اصل منبہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے پاس جوہری معاملے کے حل کے لیے ’’مکمل اختیار اور طاقت‘‘ ہے۔ جون میں صدر منتخب ہونے والے روحانی کو ان کے پیش رو محمود احمدی نژاد کی نسبت اعتدال پسند تصور کیا جاتا ہے۔ وہ یہ مشورہ دیتے آئے ہیں کہ ایران کو مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہیئں۔